لاہور ہائیکورٹ نے حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی، ملٹری کورٹ کی کارروائی اور کورٹ مارشل کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب سے جواب طلب کر لیا۔
درخواست کی سماعت جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:حسان نیازی کا مستقبل تباہ ہوگیا، مریم نواز نے ایسا کیوں کہا؟
درخواست گزار کی جانب سے وکیل فیصل صدیقی پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ 9 مئی کیس میں گرفتاری کے بعد حسان نیازی کو سویلین عدالت میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ تھانہ سرور روڈ پولیس نے کسٹڈی ملٹری کو دے دی۔ وکیل نے کہا کہ کسی عدالتی حکم کے باوجود غیر قانونی طور پر ملٹری کے حوالے کیا گیا۔

وکیل نے استدعا کی کہ ملٹری کسٹڈی میں لینے کا کمانڈنگ آفیسر کا 17 اگست 2023 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، اور ملٹری کسٹڈی میں دینے، ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی اور کورٹ مارشل کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔
وکیل نے مزید کہا کہ عدالت جیل سے رہا کرنے یا انسداد دہشتگردی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کرے۔
عدالت نے درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب سے جواب طلب کر لیا۔














