بھارت میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِثانی کے دوران بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) کی خودکشیوں اور اچانک اموات نے ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایک آزاد رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 4 نومبر کے بعد ملک بھر میں کم از کم 33 بی ایل اوز جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں کم از کم 9 نے خودکشی کی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں الیکشن مہم کے دوران سیاسی رہنما کی صحافی کو رشوت، ویڈیو وائرل
زیادہ تر متاثرین سرکاری اسکولوں کے اساتذہ یا نچلے درجے کے سرکاری ملازمین تھے، جنہیں بغیر مناسب تربیت اور سہولیات کے ایک انتہائی بڑا انتخابی کام سونپا گیا۔ ان افسران پر روزانہ سینکڑوں فارم مکمل کرنے، گھر گھر جا کر ووٹروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور رات گئے تک آن لائن اپ لوڈ کرنے کا دباؤ تھا۔
کئی خودکشی نوٹس اور ویڈیوز میں بی ایل اوز نے واضح طور پر نیند کی کمی، مسلسل دھمکی آمیز پیغامات اور اہداف پورے نہ ہونے پر کارروائی کے خوف کو اپنی ذہنی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ قرار دیا۔
اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال اور راجستھان سے سامنے آنے والے واقعات میں بعض افسران دل کا دورہ، فالج یا دماغی شریان پھٹنے سے جان سے گئے، جبکہ کچھ نے خود کو ختم کر لیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد دن رات کام کرتے رہے، نہ ٹھیک سے کھا سکے اور نہ ہی سو سکے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ اوقات میں اضافہ منظور
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کام معمول کے مطابق ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں اور ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ معمولی اضافی معاوضہ انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ سوشل میڈیا پر بھی کمیشن کی جانب سے اسٹریس کم کرنے کی ویڈیو پر شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔
ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایس آئی آر کو فوری طور پر انسانی بنیادوں پر نظرِثانی کیا جائے، ذمہ داروں کا تعین ہو اور جاں بحق بی ایل اوز کے خاندانوں کو انصاف اور مستقل ریلیف فراہم کیا جائے۔














