حکومتِ جاپان، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے حکومتِ خیبر پختونخوا کے اشتراک سے ضم شدہ اضلاع میں مقامی گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ایک نئے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
اس منصوبے کا عنوان ‘خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں عوامی خدمات کے انفراسٹرکچر کی ترقی’ ہے، جسے یو این ڈی پی کے مرجڈ ایریاز گورننس پروگرام کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ اس شراکت داری کو اسلام آباد میں تقریب کے ذریعے باضابطہ شکل دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی حکومت ضم شدہ قبائلی اضلاع سے متعلق کمیٹی فوری ختم کرے، پی ٹی آئی کا مطالبہ
2018 میں خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ضم شدہ اضلاع ایک اہم عبوری مرحلے سے گزر رہے ہیں، جہاں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ منصوبے کا مقصد پہلی بار منتخب ہونے والی تحصیل لوکل گورنمنٹس کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ کرنا، انتظامی نظام کو مضبوط بنانا اور بنیادی عوامی خدمات تک رسائی بہتر بنانا ہے۔

جاپان کی جانب سے 51 کروڑ 80 لاکھ جاپانی ین (تقریباً 35 لاکھ امریکی ڈالر) کی معاونت سے 8 ضم شدہ اضلاع کی 19 تحصیل لوکل گورنمنٹس میں چھوٹے پیمانے کے انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ اس سے براہِ راست تقریباً 18 ہزار افراد مستفید ہوں گے جبکہ بالواسطہ طور پر 5 لاکھ کے قریب آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ضم شدہ اضلاع میں روزگار اور تعلیم کی فراہمی اور غربت کے خاتمے تک امن قائم نہیں ہوسکتا، چیئرمین سینیٹ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع پائیدار امن اور ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ جائیکا اور یو این ڈی پی کے نمائندوں نے اسے عوامی اعتماد، شفافیت اور پائیدار ترقی کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
منصوبہ صوبائی و وفاقی ترقیاتی حکمتِ عملیوں اور ایس ڈی جیز کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔













