برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے مجوزہ سیکیورٹی منصوبے پر پیشرفت کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ اس حوالے سے لندن میں ہونے والے مذاکرات میں 44 سے زائد ممالک کے دفاعی حکام شریک ہوئے۔
2 روزہ اجلاس میں عسکری ماہرین نے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک مشترکہ مشن کے خدوخال پر غور کیا، جس کا مقصد جنگ بندی کے بعد تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا اور بحری راستے کو محفوظ بنانا ہے۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی کے مطابق یہ ایک دفاعی نوعیت کا کثیر الملکی مشن ہوگا جو ضرورت پڑنے پر بارودی سرنگوں کی صفائی اور جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔
فرانسیسی وزیر دفاع کیتھرین ووترین کے ساتھ مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا کہ اس منصوبے پر نمایاں پیشرفت ممکن ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جان ہیلی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آزادی عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے، اور دنیا بھر کے لاکھوں افراد ان مذاکرات کے نتائج کے منتظر ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے مطابق ایک درجن سے زائد ممالک پہلے ہی اس مشن میں شمولیت پر آمادہ ہو چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ تنازع سے قبل عالمی تیل کا قریباً 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا تھا، جس کی بندش عالمی توانائی منڈی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک آبنائے ہرمز کو کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں ختم نہیں کرتا، جس سے سفارتی تعطل برقرار ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے پاس وقت کم بچا ہے، معاہدہ ہماری شرائط پر ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اگرچہ جنگ بندی کے بعد خطے میں کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے دباؤ برقرار رہنے کے باعث صورتحال تاحال غیر مستحکم ہے۔













