لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار

بدھ 22 اپریل 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آشا بھوسلے کے دنیا سے جانے کی خبر کے ساتھ ان کی آواز میں گانے نشر کرنے پر جیو نیوز کو پیمرا کا نوٹس ملنا بھی ایک خبر بن گئی۔ اس پر یہی کہا جاسکتا ہے ’نوٹس ملیا تے ککھ نہ ہلیا‘ البتہ اس سے افسر شاہی کی پامال ذہنیت ایک دفعہ پھر آشکار ہوئی جس کے لیے اس نے ایک عدالتی فیصلے کو بنیاد بنایا ہے۔

اس تازہ شگوفے پر وسعت اللہ خان کے کالم اور محمد حنیف کے وِلاگ نے کچھ لکھنے کی گنجائش کم ہی چھوڑی ہے۔ اس لیے میں نے اس ’کھٹ راگ‘ کو موضوع بنانے کے بجائے ایک پرانا راگ چھیڑنے کی کوشش کی ہے جس میں ایک انڈین فلم سے پاکستانیوں کی گہری وابستگی کی منفرد مثال سامنے آتی ہے۔

پیمرا کے تازہ فرمان کی روشنی میں اگر کوئی ٹی وی چینل اس فلم کے بارے میں کبھی خبر چلائے تو اسے فلم میں لتا کی آواز میں اس گانے کو چلانے سے احتراز کرنا ہوگا:

’پیار کیا تو ڈرنا کیا جب پیار کیا تو ڈرنا کیا

پیار کیا کوئی چوری نہیں کی چھپ چھپ آہیں بھرنا کیا‘

جنوری 1977 میں فلم ’مغل اعظم‘ کو امرتسر ٹیلی ویژن پر دکھانے کا اعلان ہوا جسے لاہور میں بیٹھ کر دیکھنا ممکن تھا۔ اس فلم کی کشش پاکستان بھر سے لوگوں کو لاہور کھینچ لائی تھی۔

ٹی وی پر فلم دیکھنے کے لیے شہریوں کی یہ یلغار برصغیر میں فلم بینی کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ تھا۔

یہ تڑپ اس فلم کے لیے تھی جسے ریلیز ہوئے 16 برس گزر چکے تھے لیکن فلم اور اس سے جڑی کہانیوں کے مسلسل بیان نے فلم بینوں کے انتہائے شوق کو مدھم نہیں پڑنے دیا۔

انتظار حسین کے ’مشرق‘ اخبار میں ’لاہور نامہ‘ کے عنوان سے کالموں میں ربع صدی کی ادبی، تہذیبی اور ثقافتی تاریخ محفوظ ہے۔ انہوں نے لاہور شہر کے وقائع نگار ہونے کا حق ادا کیا۔ 1973 میں امرتسر ٹی وی اسٹیشن کی اپنے ہاں مقبولیت کے بارے میں انہوں نے لکھا جس کی نشریات شروع ہونے کی خبروں کے بعد چھتوں پر انٹینا بلند سے بلند تر ہو رہا تھا اور ٹی وی کے خریدار بڑھ رہے تھے۔ کہیں تو ثقافتی یلغار کی بات ہو رہی تھی اور اب امرتسر ٹی وی اسٹیشن ذہنوں پر حاوی تھا۔

انتظار صاحب کے بیان کا خلاصہ غالب کے اس مصرعے کی صورت بیان کیا جا سکتا ہے:

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

امرتسر ٹی وی کی نشریات کا جادو مغل اعظم کی وجہ سے سر چڑھ کر بولا جس کے سحر میں لاہور سے باہر کے لوگ بھی آئے۔

اس فلم کے پُرشوق ناظرین کی دیوانگی کا احوال انتظار حسین کے کالم میں کچھ یوں بیان ہوا :

’پچھلے ہفتے جو اس شہر میں ایک واقعہ گزر گیا ہے اس کا بھی کچھ بیان ہو ہی جانا چاہیے۔ باولے شہر میں اونٹ اور لاہور شہر میں مغل اعظم مگر ہم ہی باولے نہیں بنے جس جس شہر یہ خبر پہنچی کہ امرتسر ٹیلی ویژن پر مغل اعظم دکھائی جا رہی ہے اس اس شہر میں یار لوگ باولے بنے اور بستر بوریا باندھ کر ٹکٹ کٹا کے لاہور آپہنچے۔ آنے والے کراچی اور اسلام آباد سے پی آئی اے کے ٹکٹ کٹا کٹا کر آئے۔ اب آپ سے کیا چوری، مغل اعظم ہم نے بھی دیکھی۔ اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے ڈاکٹر سید عبداللہ سے معذرت کرنی ہے۔ وہ کہیں گے کہ لو یہ شخص بھی امرتسر ٹی وی کی ثقافتی یلغار میں آگیا۔‘

مغل اعظم کے لیے یہ چل پوں اس لیے مچی تھی کہ برسوں سے انڈین فلموں پر پاکستان میں پابندی تھی اور وی سی آر نے ہمارے معاشرے میں ابھی جگہ نہیں بنائی تھی سو اسے دیکھنے کی صورت پیدا ہوتے ہی عوام نے دیوانہ وار لاہور کا رخ کیا جہاں لاہوریے انہیں اس خوشی میں شریک کرنے کے لیے ایک دم تیار نظر آئے۔

انتظار صاحب کے کالم کے بعد مغل اعظم کے باعث شہر کی زندگی میں تموج کا قدرے مفصل بیان معتبر جریدے ویو پوائنٹ کی لاہور ڈائری میں ملتا ہے جس کے آخر میں لاہوری لکھا ہے جو ظفر اقبال مرزا کا قلمی نام تھا جنہیں صحافتی حلقوں میں ZIM کے نام سے جانا جاتا ہے۔

انتظار حسین کے کالم کے عنوان میں مغل اعظم کی لاہور پر چڑھائی کے الفاظ درج تھے ادھر انگریزی میں ڈائری کا عنوان تھا:

The Mughal-e-Azam invades the city

انگریزی میں ڈائری نویس نے صورت احوال واقعی کو بیان کیا اور ذاتی تأثر کے ساتھ عام آدمی کی رائے کو بھی جگہ دی۔

مغل اعظم کے بارے میں جوش و خروش انہیں یکسر مضحکہ خیز لگا اور وہ لوگوں کی اس سرگرمی میں انتہا درجے کی دلچسپی کو سمجھنے سے قاصر تھے جس کا دائرہ لاہور کے باسیوں تک محدود نہیں تھا اور دور دراز کراچی تک پھیلا ہوا تھا۔

فیض احمد فیض اس دن کراچی سے لاہور کے لیے ہوائی جہاز میں سیٹ نہ ملنے کی وجہ ایک اجلاس میں شرکت سے محروم رہے۔ جمعے کی شام اور ہفتے کی صبح راولپنڈی سے آنے والی ٹرین بھی مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ بادامی باغ کے بس اسٹینڈ پر افراتفری کا عالم تھا۔ رکشے والے وہاں سے ریگل تک کا کرایہ 20 سے 30 روپے وصول کر رہے تھے۔

وہ خاندان بھی تھے جنہوں نے منی بس کرایے پر لے کر لاہور کا رخ کیا تھا اور کچھ شائق اپنے ساتھ ٹی وی سیٹ بھی لائے تھے۔

ڈائری نویس نے مزید لکھا کہ جوں جوں فلم کا دن قریب آرہا تھا جوش میں اضافہ ہو رہا تھا اور اب وہ لوگ جن کی عام طور پر انڈین اور پاکستان فلموں میں دلچسپی نہیں تھی، وہ بھی اس سرگرمی کا حصہ بن رہے تھے۔

اس ہیجان نے سیاسی سرگرمیوں کو بھی پیچھے دھکیل دیا۔ رات کے کھانے اور آپس میں مل بیٹھنے کا اہتمام بھی ہوا، پورا ہفتہ ٹی وی سیلز سینٹرز پر گاہکوں کا رش رہا۔

ڈائری نویس نے فلم نشر ہونے سے پہلے کا نقشہ کچھ یوں کھینچا:

’فلم کے وقتِ مقررہ سے ایک گھنٹہ پہلے شہر کی گلیاں ویران ہوگئیں۔ خریداری کے مراکز بند ہوگئے، اور شہر میں کرفیو کا سماں تھا۔‘

ممتاز صحافی حسین نقی سے ان دنوں کی یاد تازہ کرنے کے لیے میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اوروں کا تو ذکر ہی کیا ان کے اپنے دوست اور ایک کزن کراچی سے خاص یہ فلم دیکھنے لاہور آئے اور ان کے یہاں ماڈل ٹاؤن میں ٹھہرے تھے۔ ان کے بقول شہر میں گہما گہمی اور بڑی رونق تھی، ہوٹل والوں کی چاندی ہوگئی تھی اور جس وقت فلم ٹی وی پر چلی تو شہر میں ہو کا عالم تھا۔

ویو پواینٹ کی ڈائری سے مزنگ چونگی کے پان والے کی فلم کے بارے میں رائے بھی ہمارے علم میں آتی ہے، اس کے خیال میں فلم اچھی ہے لیکن اس کے لفاظی سے بھرپور مکالمے ایک پڑھا لکھا آدمی ہی پوری طور پر سمجھ سکتا ہے۔

لاہور کے پان والوں کی فلموں میں دلچسپی کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے جس کی چند جھلکیاں آپ کو دکھاتے ہیں۔

پنجابی کے معروف لکھاری نادر علی نے ’بالپن دا شہر‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتوں میں نسبت روڈ کے مینے پان والے کا تذکرہ کیا ہے جو ریکھا پر مر مٹا تھا اور اس نے سنہ 80 میں اس کی تصویریں مہنگے فریموں میں لگا کر آویزاں کر رکھی تھیں۔

نادر علی نے فلمی ایکٹرسوں سے عشق کی ریت کا حوالہ دیا ہے۔ وہ خود ’1945 میں ’ہمایوں‘ دیکھ کر نرگس پر عاشق ہوے تھے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ عاشقوں کے شہر لاہور کے درزی نے ایک فلمی ہیروئن کو بمبئی میں رشتے کا پیغام بھجوایا تھا۔ بات مینے پنواڑی کی ہو رہی تھی تو لاہور کے پنواڑیوں کے مغل اعظم کی ہیروئن مدھو بالا سے محبت کی بھی روایت ہے۔

دو کا قصہ انتظار حسین نے لکھا ہے۔

ایک صاحب ادھیڑ عمری کی منزل میں تھے اور ان کی دکان مدھو بالا کی مختلف پوز میں تصویروں کا نگار خانہ تھی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ مدھو بالا سے ان کی روحانی شادی ہوئی ہے۔

دوسرے پنواڑی کو سیاست کے بارے میں گفتگو کرنے کا چسکا تھا لیکن ایک دن اس کے تیور بدلے نظر آئے۔ سیاست پر بات کرنے کے بجائے وہ مدھو بالا کا غم منا رہا تھا۔ اس کے ساتھ اپنے مکالمے کو انتظار حسین نے کچھ یوں رقم کیا ہے:

پان لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ صاحب بہت افسوس ہوا۔

ہم نے پوچھا: کس بات کا؟

بولا کہ مدھو بالا مرگئی۔ چپ ہوا۔ پھر بولا کل اس پر لاہور نامہ آئے گا؟

ہم نے کہاکہ ہاں آئے گا۔

بولا کہ ذرا اچھا آنا چاہیے۔

اچھا آنے کا تقاضا انتظار صاحب نے اچھی طرح پورا کیا اور مدھو بالا کے بارے میں درد بھرا کالم لکھا جس کا عنوان غالب کا یہ مصرع ٹھہرا تھا:

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

فلمی ایکٹرسوں سے محبت کے جذبے کو مجید امجد نے نرگس پر اپنی نظم میں بھی بیان کیا ہے جس کا ایک حصہ آپ بھی ملاحظہ کیجیے :

میں نے حسرت بھری نظروں سے تجھے دیکھا ہے

جب تو روز، اک نئے بہروپ میں، روز اک نئے انداز کے ساتھ

اپنی ان گاتی ہوئی انکھڑیوں کی چشمکِ طناز کے ساتھ

روز اک تازہ صنم خانۂ آہنگ میں در آئی ہے !

ایکٹریس! روپ کی رانی! تجھے معلوم نہیں

کس طرح تیرے خیالوں کے بھنور میں جی کر

کن تمناؤں کا تلخابۂ نوشیں پی کر

میں نے اک عمر ترے ناچتے سایوں کی پرستش کی ہے

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ایران کے پاس وقت کم بچا ہے، معاہدہ ہماری شرائط پر ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو جہنم کا گڑھا قرار دے دیا، مودی حکومت کی عالمی سطح پر سبکی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ