پشاور سے تعلق رکھنے والی صبا یامین ایک خودمختار خاتون ہیں، جو اپنا کام خود کرتی ہیں۔ اسکوٹی نے انہیں مزید بااختیار بنا دیا ہے اور اب وہ جہاں بھی جانا ہو، آسانی سے خود جا سکتی ہیں۔ صبا یامین کافی عرصے سے اسکوٹی استعمال کررہی ہیں۔ اس سے ان کی زندگی آسان ہو گئی ہے اور اب وہ کسی پر انحصار نہیں کرتیں۔
’مجھے کام کے سلسلے میں کہیں جانا ہو یا مارکیٹ کا چکر لگانا ہو، میں اسکوٹی پر بیٹھتی ہوں اور جہاں جانا ہوتا ہے نکل جاتی ہوں۔‘
ان کے مطابق سڑک پر ایک خاتون کے لیے مردوں کے زیرِ اثر معاشرے میں اسکوٹی چلانا آسان نہیں۔ لوگ طنز کرتے ہیں اور بعض اوقات خود غلطی کر کے الزام خاتون پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صبا یامین نے بتایا کہ اب وہ مکمل طور پر بااختیار بن چکی ہیں۔
’پشاور میں خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ ایک بڑا مسئلہ ہے، گھر سے مرکزی سڑک تک جانا اور پھر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے، اسی وجہ سے کئی لڑکیاں نوکری نہیں کر پاتیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسکوٹی نے کام کرنے والی خواتین کی زندگیاں آسان بنا دی ہیں۔ یہ چلانے میں آسان ہے، خرچہ بھی کم ہے اور کسی پر انحصار بھی نہیں رہتا۔
صبا یامین کی زندگی پر اسکوٹی کے اثرات دیکھیے۔ اس ویڈیو رپورٹ میں۔













