اسلام آباد میں موجود اسپورٹس کمپلیکس ایک قومی موقع
پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے، جہاں 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے لیے یہی نوجوان آبادی طاقت کا ذریعہ بنی، مگر پاکستان میں یہ قوت مناسب پالیسی، تعلیم اور صحت کے فقدان کے باعث ضائع ہو رہی ہے۔
کھیل، جو دنیا بھر میں صحت، معیشت اور قومی شناخت کا اہم ذریعہ بن چکا ہے، پاکستان میں اب بھی سنجیدہ تعلیمی اور پالیسی فریم ورک سے محروم ہے۔
پاکستان میں آج بھی کھیل کو محض تفریح یا وقتی سرگرمی سمجھا جاتا ہے، جبکہ جدید دنیا میں کھیل سائنس، تحقیق، روزگار اور عالمی مقابلے کا باقاعدہ شعبہ بن چکا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے ایک قومی سپورٹس یونیورسٹی پُر کر سکتی ہے۔
کھیل اب صرف شوق نہیں، صنعت ہے۔
دنیا میں اسپورٹس اربوں ڈالر کی معیشت:
نوجوانوں کی صحت کا ضامن عالمی سفارت کاری کا ذریعہ روزگار پیدا کرنے والی انڈسٹری بن چکا ہے۔ اسپورٹس سائنس، فزیوتھراپی، اسپورٹس مینجمنٹ، ڈیٹا اینالیٹکس، کوچنگ اور اسپورٹس لاء جیسے شعبے جدید معیشت کا حصہ ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان تمام شعبوں کے لیے کوئی جامع، مربوط اور اعلیٰ معیار کی تعلیمی یونیورسٹی موجود نہیں۔
عالمی رجحان، دنیا نے کیا کِیا اور نتیجہ کیا نکلا ؟
برطانیہ:
Loughborough University کئی برسوں سے دنیا کی نمبر ون اسپورٹس یونیورسٹی سمجھی جاتی ہے۔ لندن اولمپکس 2012 کے بعد برطانیہ نے یونیورسٹی بیسڈ اسپورٹس سائنس کو قومی حکمتِ عملی بنایا، جس کا نتیجہ اولمپکس میڈلز میں واضح اضافے اور اسپورٹس اکانومی کی ترقی کی صورت میں سامنے آیا۔
چین:
Beijing Sport University چین کی نیشنل ٹیموں کا تحقیقی مرکز ہے۔ ٹیلنٹ اسکاؤٹنگ سے لے کر اولمپک پوڈیم تک ایک مربوط تعلیمی اور سائنسی نظام نے چین کو مستقل عالمی اسپورٹس پاور بنا دیا۔
آسٹریلیا:
Australian Institute of Sport نے یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت کر کے کوچنگ، ریہیب اور اسپورٹس سائنس کو عالمی سطح پر برآمد کیا۔ محدود آبادی کے باوجود آسٹریلیا کی اسپورٹس کامیابیاں اسی ماڈل کا نتیجہ ہیں۔
خلیجی ممالک:
قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسپورٹس اکیڈمیز اور یونیورسٹیز کو قومی برانڈنگ اور نوجوانوں کی تیاری سے جوڑا۔ Aspire Academy (قطر) اس کی نمایاں مثال ہے۔
اسلام آباد کیوں بہترین انتخاب ہے؟
اسلام آباد واحد شہر ہے جہاں وفاقی حکومت اور پالیسی ساز موجود ہیں۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ جیسے ادارے قائم ہیں۔ سفارتی اور بین الاقوامی روابط دستیاب ہیں۔
اور سب سے اہم، پہلے سے موجود اسپورٹس کمپلیکس اور سرکاری زمین۔ یہ سہولت پاکستان کو ایک منفرد موقع دیتی ہے کہ کم لاگت اور کم وقت میں ایک قومی سپورٹس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جائے۔
حکومتی سفارشات، دستیاب جگہ کو قومی اثاثہ بنایا جائے
- اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس کو سپورٹس یونیورسٹی کیمپس میں بدلا جائے
نئی زمین خریدنے کے بجائے موجودہ انفراسٹرکچر کو تعلیمی و تحقیقی مقاصد کے لیے اپ گریڈ کیا جائے۔
- مرحلہ وار ماڈل اپنایا جائے
ابتدائی طور پر “نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسپورٹس سائنس اینڈ مینجمنٹ” قائم کیا جائے، جسے تین سے پانچ سال میں مکمل سپورٹس یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے۔
- پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP)
حکومت زمین اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے، جبکہ نجی شعبہ لیبز، اسپورٹس ٹیکنالوجی اور ریہیب سینٹرز میں سرمایہ کاری کرے۔
- قومی پالیسی سے قانونی ربط
ادارے کو نیشنل اسپورٹس پالیسی، یوتھ پالیسی اور ہیلتھ پالیسی کا حصہ بنایا جائے تاکہ تسلسل برقرار رہے۔
- شفاف اور خودمختار گورننس
بورڈ آف گورنرز میں حکومت، سابق ایتھلیٹس، ماہرین تعلیم اور نجی شعبے کی نمائندگی ہو۔
- خواتین اور نچلی سطح کے ٹیلنٹ پر خصوصی توجہ
محفوظ ہاسٹل، خواتین کے لیے علیحدہ پروگرامز اور اسکول سطح پر ٹیلنٹ اسکاؤٹنگ کو ترجیح دی جائے۔
متوقع فوائد:
نوجوانوں کی صحت اور نظم و ضبط میں بہتری
کھیلوں سے وابستہ ہزاروں روزگار:
بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر قومی کارکردگی
پاکستان کا مثبت عالمی تشخص:
سپورٹس یونیورسٹی محض کھیلوں کا ادارہ نہیں بلکہ قوم کی صحت، معیشت اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اسلام آباد میں موجود اسپورٹس کمپلیکس پاکستان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ کم وسائل میں بڑا فیصلہ کرے۔
دنیا کھیل کو قوم سازی کا ذریعہ بنا چکی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ کیا ہم کر سکتے ہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں بھی کہ نھیں ؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














