وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی بنی ہوئی ہے، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا اگر فیصلہ ہوا تو یہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا حصہ بننے سے گریز کررہی ہے، اگر یہ فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو نتائج اچھے ہوں گے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دہشتگردوں کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی اور حکومت کے مزے بھی لینا چاہتی ہے، یہ لوگ شہدا کے ساتھ یکجہتی اور جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے، جب ملک اور اس کی افواج خطرے میں ہوں تو پھر سیاسی مصلحتوں کا شکار نہیں ہونا پڑتا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں پیغام بالکل واضح تھا، ان کی جانب سے جو باتیں کی گئیں وہ حقائق پر مبنی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ ہم آپریشن نہیں ہونے دیں گے یہ دہشتگردوں کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ خود بھی مسلح جدوجہد کررہے ہیں، اور کئی بار دارالحکومت پر حملہ کیا، یہ ملک ہم سب کا ہے اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے ماضی میں دہشتگردوں سے براہِ راست مذاکرات کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہوئی، جبکہ امن قائم کرنے کے لیے ہم نے براہ راست کابل حکومت سے بھی بات کی۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مذاکرات ضرور ہونے چاہییں، لیکن پی ٹی آئی محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے ذریعے بات چیت چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ
عمران خان کو سیاست سے مائنس کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ مجھے اس کا علم نہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ آئین میں تو اس کی گنجائش موجود ہے لیکن میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔














