وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سیاسی بھرتیوں نے کئی اداروں کو تباہ کیا ہے جن میں سے ایک پاکستان ٹیلی ویژن بھی ہے۔
’پی ٹی وی میں پورے کے پورے خاندان بھرتی کیے گئے ہیں‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہاکہ ایک ٹیلی ویژن چینل زیادہ سے زیادہ 500 ملازمین کے ساتھ چل سکتا ہے لیکن پی ٹی وی میں 15 ہزار کے قریب ملازمین ہیں اور پورے کے پورے خاندان بھرتی کیے گئے ہیں۔
’ایم بی بی ایس کی پالیسی یعنی میاں بیوی بچوں سمیت کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ میاں، بیوی اور بچے آتے ہیں اور بائیو میٹرک لگا کر چلے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ یہاں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جن میں بڑے نامور صحافی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ میں ایک مڈل کلاس سیاستدان ہوں اور پی ٹی وی کو ٹھیک کرکے جاؤں گا۔ ’یا میں نہیں یا وہ نہیں۔‘
’بقایا جات ادا کرنے کی وجہ سے تنخواہوں کا عارضی بحران سامنے آیا تھا‘
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ انہوں نے جب پی ٹی وی کا چارج سنبھالا تو اربوں روپے کے بقایا جات تھے جو انہوں نے ادا کرنا شروع کیے ہیں جس کی وجہ سے ایک عارضی مالی بحران تنخواہوں کی تاخیر کی صورت میں آیا تھا تاہم وہ اب حالات کو بہتری کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہاکہ ان کے ادارے کو ٹھیک کرنے کے اقدامات کی وجہ سے برسوں سے اس ادارے کی تباہی کے ذمہ داروں کی چیخیں نکل رہی ہیں جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہیں اور پی ٹی وی کو ٹھیک کرکے ہی چھوڑیں گے۔













