سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے معاملے میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
یہ کیس سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو دیا گیا بلغاری زیورات کا تحفہ سے متعلق ہے جسے بعد میں نصف قیمت پر فروخت کر دیا گیا تھا۔
تفتیشی ٹیم کے مطابق استغاثہ کا کیس مضبوط تھا اور 24 گواہوں بشمول عمران خان کے پرنسپل سیکرٹریز اور فوجی سیکرٹریز کے دستاویزی شواہد پیش کیے گئے۔
غیر ملکی امور کے دستاویزات بھی پیش کیے گئے جو جرم ثابت کرنے کے لیے کافی سمجھے گئے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جو دعوے کیے گئے کہ جوڑے کو اپنی دفاعی دلائل پیش کرنے کا موقع نہیں ملا، وہ بے بنیاد ہیں، اور متعدد مواقع دیے گئے تاکہ شواہد پیش کیے جا سکیں۔
گواہوں کے مبیبنہ طور پر دباؤ میں آنے کے حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کی عدالت میں تصدیق نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیے: توشہ خانہ 2 کیس: پی ٹی آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کو سیاسی انتقام قرار دے دیا
پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ اس نے عمران خان کے خلاف غلط بیانی پھیلائی تاہم عدالت نے تصدیق کی کہ دفاع کو برابر کا موقع فراہم کیا گیا۔
واضح رہے کہ عمران خان پہلے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں 14 سال قید کی سزا پا چکے ہیں جسے توشہ خانہ 1 کیس کہا جاتا ہے۔ اب انہیں توشہ خانہ 2 کیس میں بھی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عمران خان کے دور حکومت میں عدلیہ کے غلط استعمال اور بدعنوانی کے مقدمات میں خوش آئند ججوں سے فائدہ اٹھانے کے ذریعے کئی بار غلط مثال قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں: ’توشہ خانہ کیس ٹو: ‘فیصلہ واضح ہے کہ عوامی عہدہ فائدے کے لیے نہیں، خدمت کے لیے ہے‘
توشہ خانہ چوری کیس میں یہ واقعہ غیر معمولی تھا کیونکہ اس کی منظوری عمران خان کی کابینہ نے دی تھی جس سے بین الاقوامی شخصیات کی جانب سے سیاسی رہنماؤں کو دیے گئے تحائف کے غلط استعمال کا واضح ثبوت ملتا ہے۔














