وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو کتنے کھرب روپے دیے گئے؟ وزارتِ خزانہ نے رپورٹ جاری کردی

ہفتہ 20 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ جولائی 2010 سے اب تک خیبر پختونخوا کو وفاقی تقسیم شدہ وسائل سے مجموعی طور پر 6.57 کھرب روپے منتقل کیے جاچکے ہیں، جن میں نیشنل فنانس کمیشن کے تحت صوبائی حصہ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کی مد میں اضافی رقوم شامل ہیں۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک وفاقی حکومت نے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو 5 ہزار 867 ارب روپے منتقل کیے، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے متعلق اخراجات کی تلافی کے لیے 705 ارب روپے اضافی ادا کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کے دعوے حقیقت سے عاری ہیں، طارق فضل چوہدری

وزارت کے مطابق ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کا حصہ صوبائی حصے میں 14.62 فیصد مقرر کیا گیا تھا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران صوبے پر پڑنے والے غیر معمولی بوجھ کے پیش نظر تقسیم شدہ وسائل میں سے اضافی 1 فیصد حصہ خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ساتواں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ اگرچہ 5 سال کے لیے طے کیا گیا تھا، تاہم 8ویں، 9ویں اور 10ویں ایوارڈ پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث اسی فریم ورک پر عمل جاری رکھا گیا، جس کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مد میں اضافی حصہ بھی مسلسل مل رہا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق صوبوں کو نیشنل فنانس کمیشن کے تحت رقوم ہر 15 دن بعد جاری کی جاتی ہیں اور اس مد میں کسی قسم کے واجبات باقی نہیں۔ حال ہی میں 17 دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا حکومت کو 46.44 ارب روپے جاری کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں مالی بحران شدید، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اعلانات غیر یقینی کا شکار

وزارت نے بتایا کہ نیشنل فنانس کمیشن کے علاوہ بھی خیبر پختونخوا کو براہِ راست منتقلیاں بلا تعطل جاری رکھی گئیں۔ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک تیل و گیس کی رائلٹی، گیس ڈیولپمنٹ سرچارج، قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر مدات میں 482.78 ارب روپے صوبے کو منتقل کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اور نئے نیشنل فنانس کمیشن فارمولے کی عدم موجودگی میں، وفاقی حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع کے اخراجات اپنی نیشنل فنانس کمیشن حصے سے پورے کیے۔

2019 سے اب تک نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 704 ارب روپے جبکہ اندرونی طور پر بے گھر افراد کے لیے مجموعی طور پر 117.166 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے گزشتہ 15 سال میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا کو 115 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی سال 2016 سے 2025 تک صوبے میں 481.433 ارب روپے کی نقد امداد دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرخزانہ کا معاشی اصلاحات پرزور، این ایف سی پر جنوری تک پیش رفت کا اعلان

بیان میں کہا گیا کہ گیارہواں نیشنل فنانس کمیشن صدرِ پاکستان کی جانب سے 22 اگست 2025 کو تشکیل دیا گیا اور اس کا پہلا اجلاس 4 دسمبر 2025 کو ہوا، جس میں سابق فاٹا اور نئے ضم شدہ اضلاع کے حصے سے متعلق سفارشات کے لیے ایک ذیلی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر اس ذیلی گروپ کا پہلا اجلاس 23 دسمبر 2025 کو طلب کیا گیا ہے، جس کی سربراہی صوبائی وزیر خزانہ کریں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت پر خیبر پختونخوا کے واجب الادا نیٹ ہائیڈل منافع کی مد میں 2,200 ارب روپے جبکہ سابق فاٹا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے نیشنل فنانس کمیشن کی مد میں 1,375 ارب روپے بقایا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟