خیبر پختونخوا میں مالی مشکلات کے باوجود حکومت کی جانب سے غیر معمولی بڑے منصوبوں کے اعلانات نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں حالیہ جلسے خطاب کرتے ہوئے 5 ہزار بستروں پر مشتمل 100 ارب روپے مالیت کے اسپتال کا اعلان کیا ہے، جسے دنیا کا دوسرا بڑا اسپتال قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی نہ کوئی فزیبلٹی موجود ہے اور نہ ہی بجٹ میں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا حکومت ماضی میں بھی بلند و بانگ منصوبوں کے دعوے کرتی رہی ہے جیسے بلین ٹری سونامی ہو یا 350 ڈیموں کا اعلان مگر کئی منصوبے کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔
صوبے میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہیں جبکہ صحت کارڈ پروگرام کے لیے مختص فنڈز بھی ختم ہوچکے ہیں۔
ایسے میں وزیراعلیٰ کی جانب سے اربوں روپے کے ایک اور میگا پراجیکٹ کے اعلان کو ناقدین کی جانب سے محض سیاسی نعرہ قرار دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی میں کیا فرق ہے؟
ان کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ وہی پرانی روایت ہے جس میں عوام کو بڑے خواب دکھائے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر صوبہ مالی بحران، ادھورے منصوبوں اور بڑھتے ہوئے قرضوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔














