وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بھی اٹھائیں گے اور ہر فورم پر ڈٹ کر کھڑے بھی ہوں گے۔ انہوں نے وسائل کی تقسیم میں ہونے والے مبینہ امتیازی سلوک پر بھی سوالات اٹھائے۔
مزید پڑھیں: حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار، سیاسی قیدی رہا اور نئے الیکشن کرائے جائیں، اپوزیشن اتحاد
اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وفاق پر 4 ہزار 758 ارب روپے واجب الادا ہیں، تاہم صورتحال یہ ہے کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ انہیں اڈیالہ کے باہر ایک پولیس اہلکار روک لیتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملک اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور 36 ہزار ارب روپے کے قرضے کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہاکہ آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی بحالی کے لیے وہ اپوزیشن اتحاد کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک میں نئے شفاف اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرانے پر زور دیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس نے واضح کیا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
مزید پڑھیں: فارم 47 کی مسلط حکومت نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے 2 روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جمہوریت کی مضبوط بنیاد شفاف انتخابات پر ہے، اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے ساتھ نئے انتخابات کروانے کی ضرورت ہے۔














