لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران اس قانون پر عملدرآمد روک دیا۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عابدہ پروین سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر کی۔
عدالت نے تمام درخواستوں پر عائد اعتراضات دور کرتے ہوئے فل بینچ تشکیل دینے کی سفارش بھی کر دی۔ ساتھ ہی عدالت نے پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے تحت دیے گئے تمام قبضے فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ
حکومت کو بتا دیجیے، اگر یہ قانون برقرار رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں 90 روز کے اندر زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے؟
جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل بیمار ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بھی بیمار ہوں، مجھے بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا ہے، اس کے باوجود یہاں بیٹھی ہوں۔‘
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکرٹری سے مخاطب ہو کر کہا کہ لگتا ہے آپ نے یہ قانون پڑھا ہی نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں تمام اختیارات دے دیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں قبضے ختم کرانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی، فیصلے 90 دن میں ہوں گے: وزیراعلیٰ
عدالت نے سوال اٹھایا کہ یہ قانون آخر کیوں بنایا گیا؟ اس کا مقصد کیا ہے؟
اگر کوئی معاملہ سول کورٹ میں زیرِ سماعت ہو تو ریونیو افسر کیسے قبضہ دلا سکتا ہے؟
چیف جسٹس نے اپنے مزید ریمارکس میں کہا کہ آپ نے سول سیٹ اپ اور شہریوں کے بنیادی حقوق ختم کر دیے ہیں، آپ نے عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے۔ اگر آپ کے بس میں ہوتا تو آئین کو بھی معطل کر دیتے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں ہر فیصلہ فوری نافذ ہوگا، مریم نواز کا ناجائز قبضوں کے خلاف سخت ایکشن
انہوں نے کہا کہ اگر ڈپٹی کمشنر آپ کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دے تو آپ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
’آپ کا قانون تو یہ بھی کہتا ہے کہ ہائیکورٹ اس معاملے پر اسٹے آرڈر بھی جاری نہیں کر سکتی۔‘
چیف جسٹس نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون پر کال آتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ آ جاؤ، ورنہ تمہارا قبضہ ختم۔ آپ یہاں عدالت میں کھڑے ہوں گے اور آپ کا گھر جا رہا ہوگا۔
عدالت نے مزید سوال اٹھایا کہ کیا ہمارے ہاں جعلی رجسٹریاں اور جعلی دستاویزات نہیں بنتیں؟ قانون کے مطابق جس نے شکایت کر دی، وہی درخواست گزار بن جاتا ہے۔
عدالت نے اس قانون کو شہری حقوق، آئینی تحفظ اور عدالتی نظام کے خلاف قرار دیتے ہوئے آئندہ سماعت تک اس پر عملدرآمد روک دیا۔














