امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ جماعت 15 جنوری سے عوامی ریفرنڈم کا آغاز کرے گی۔
لاہور منصورہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں پائی جاتی اور ایک ہی خاندان کے افراد مسلط رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کے وفد کی جماعت اسلامی کے اسلام آباد مرکز آمد، قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ مولانا مودودی نے جہاد کے تصور کے ساتھ ایک منظم جماعت کی بنیاد رکھ کر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف نظریہ ہی کافی نہیں، بلکہ ایک منظم جماعت کی عملی اہمیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ 40 سال تک جدوجہد کرنے والے کارکنان کو جماعتوں میں مناسب مقام نہیں دیا جاتا، اور مشکل وقت آنے پر لوگ پرانے ناموں کو یاد کر لیتے ہیں۔
پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ غیر جمہوری رویوں کے خلاف حکومت کا اپنا ریکارڈ موجود ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سعد رفیق کا فارم 47 سامنے آتا، لیکن انہوں نے فارم 45 پر ہی شکست کا اعلان کر دیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑے ہوں یا چھوٹے، سب ہی فارم 47 والے ہیں۔
تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پہلے سرکاری اسکولوں کا بیڑاغرق کیا گیا اور بعد ازاں انہیں آؤٹ سورس کر دیا گیا، جو ایک ناکام حکمت عملی کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ٹریفک حادثات، جماعت اسلامی کا شہر بھر میں احتجاجی دھرنوں کا اعلان
انہوں نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہاں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جماعت نے صبر، استقامت اور جمہوری جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ مولانا مودودی کی فکر آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے اور موجودہ حالات میں اسی فکر کے ساتھ منظم جدوجہد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔














