پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے آج بھی فیملی رہنماؤں اور وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی، جس کے خلاف علیمہ خان نے کارکنوں کے ساتھ جیل کے قریب دھرنا دے دیا۔
پولیس انتظامیہ نے دھرنے کے مقام پر تمام لائٹس بند کر دیں، جس کے باعث پورے علاقے میں شدید اندھیرا چھا گیا۔ اس صورتحال پر پی ٹی آئی ورکرز نے نعرے بازی شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان سے ملاقات کے دن اڈیالہ جیل کے باہر کیسا ماحول ہوتا ہے؟
آج دھرنے میں کارکنوں کی تعداد بہت کم ہے اور صرف چند درجن افراد ہی موجود ہیں، جبکہ چند خواتین بھی علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ کے ساتھ دھرنے میں شریک ہیں۔
علیمہ خان نے ایک بار پھر سے اڈیالہ کے سامنے دھرنا دے دیا۔۔۔ pic.twitter.com/WB2f60LkT5
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) December 23, 2025
منگل کو فیملی ارکان اور وکلا کی ملاقات کا دن ہوتا ہے، تاہم حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کررکھی ہے، اس سے قبل دو بار عمران خان کی بہنوں اور کارکنوں کا دھرنا واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے ختم کرایا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہاکہ عمران خان سے ملاقات نہ کروا کر ہمارا آئینی و قانونی حق چھینا جا رہا ہے۔
سوال : احتجاج کی کال دی جائے تو نمائندگی کون کرے گا ؟
یہ تو آپ پی ٹی آئی سے پوچھیں ہم تو یہاں اپنی ملاقات کے لیئے بیٹھے ہیں ۔علیمہ خان
سوال اگر ملاقات نہیں ہوتی تو کیا اسی طرح دھرنا دیا جائے گا جیسے پہلے دیا جاتا رہا ہے
یہ آپ لوگوں کو ہم دیکھانا چاہ رہے ہیں کہ ہمارا آئینی و… pic.twitter.com/GqMCkaPRdk
— Fauzia Siddiqui (@fozisidd) December 23, 2025
احتجاج کی کال دی جائے گی تو نمائندگی کون کرے گا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ تو آپ پی ٹی آئی سے پوچھیں ہم تو یہاں اپنی ملاقات کے لیے بیٹھے ہیں۔














