فرانس نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ برائے قومی سلامتی، اتامار بن گویر کے ملک میں داخلے پر فوری پابندی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ اقدام بن گویر کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اس ویڈیو کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے جس میں وہ غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے سے حراست میں لیے گئے یورپی اور دیگر غیر ملکی رضاکاروں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا نے اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ویزا کیوں منسوخ کیا؟
فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ فرانسیسی اور یورپی شہریوں کے خلاف نازیبا اور قابلِ ملامت رویہ اپنانے پر اتامار بن گویر کے فرانسیسی سرزمین پر داخلے پر آج سے ہی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فرانس اور اٹلی مل کر یورپی یونین کی سطح پر بھی اسرائیلی وزیر کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر نے بدھ کے روز ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں صمود فلوٹیلا کے درجنوں غیر ملکی رضاکاروں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور انہیں زمین پر ماتھا ٹیک کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی نے اسرائیلی رویے کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا، صمود فلوٹیلا کے گرفتار رضاکاروں کے ساتھ برتاؤ پر معافی کا مطالبہ
اس ویڈیو پر بن گویر نے ’اسرائیل میں خوش آمدید‘ کا کیپشن لکھا اور خود اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے ان مجبور قیدیوں کو ہراساں کرتے دکھائی دیے۔
اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی عالمی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے اس سلوک کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ ایسی بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ بن گویر پر پورے یورپی خطے میں داخلے کی پابندی لگائی جائے۔
برطانیہ کی وزیرِ داخلہ ایویٹ کوپر نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی حکومت نے اس معاملے پر برطانوی سرزمین پر موجود اعلیٰ ترین اسرائیلی سفارت کار کو طلب کرکے وضاحت مانگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے 7 جہاز تحویل میں
برطانوی دفترِ خارجہ اس وقت متاثرہ برطانوی شہریوں کے خاندانوں سے رابطے میں ہے۔
دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی اس غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے بن گویر کے اس رویے کو جمہوریت کے منافی، توہین آمیز اور انتہائی غلط قرار دیا۔
آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے ان تصاویر کو ہولناک قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ آسٹریلیا پہلے ہی بن گویر پر پابندیاں لگا چکا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے سفیر کو طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری طرف، اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی بن گویر کے ان اقدامات کو ’حقیر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی قوم کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کی روک تھام کی شدید مذمت، عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار
واضح رہے کہ یہ بین الاقوامی رضاکار گزشتہ ہفتے ترکیہ سے تقریباً 50 بحری جہازوں پر مشتمل ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تحت غزہ کا محاصرہ توڑنے اور وہاں امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہوئے تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی سمندر میں حراست میں لے لیا تھا، جنہیں گزشتہ روز رہا کردیا گیا تھا۔














