بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) انسان کی تاریخ کا سب سے مہنگا، پیچیدہ اور طویل المدت سائنسی منصوبہ ہے جو گزشتہ 25 برس سے زمین کے گرد مدار میں گردش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سمندر برد کیوں کیا جا رہا ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر بلند یہ اسٹیشن جدید انجینیئرنگ، عالمی تعاون اور انسانی عزم کی زندہ مثال ہے۔
سنہ 2000 میں پہلی مہم کے آغاز کے بعد سے اب تک آئی ایس ایس مسلسل آباد ہے۔ اگر آپ کی پیدائش 2 نومبر 2000 کے بعد ہوئی ہے تو آپ کی پوری زندگی میں خلا کبھی انسانوں سے خالی نہیں رہا۔ اب تک 280 سے زائد خلا باز اور خلانورد اس اسٹیشن پر قیام کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیے: مریخ مشن: ناسا کے خلائی جہاز نے چپ سادھ لی، وجہ سمجھ سے باہر

آئی ایس ایس اس بات کا ثبوت ہے کہ جب دنیا کے مختلف ممالک اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر مل کر کام کریں تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے اگرچہ اس سفر میں مشکلات، تاخیر اور مالی تنازعات بھی سامنے آتے رہے۔
سب سے پرانا ماڈیول (سال)
آئی ایس ایس کا پہلا ماڈیول ’زاریا‘ نومبر 1998 میں قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے خلا میں بھیجا گیا۔
ابتدا میں یہ منصوبہ تاخیر، بڑھتے اخراجات اور سیاسی مخالفت کا شکار رہا حتیٰ کہ بعض حلقے اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے حامی تھے۔
پہلی مہم کے خلا باز
نومبر 2000 میں بل شیفرڈ، سرگئی کریکیلیوف اور یوری گدزینکو نے اسٹیشن کی روشنیاں جلائیں۔
مزید پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
اس وقت آئی ایس ایس صرف 3 ماڈیولز پر مشتمل تھا، مگر انہی محدود وسائل کے باوجود خلا بازوں نے پانچ ماہ میں 22 سائنسی تجربات، سات اسپیس واکس اور 2 شٹل مشنز کا استقبال کیا۔
اسمبلی پروازیں
آئی ایس ایس کی تعمیر کے لیے 40 سے زائد پروازیں کی گئیں۔
امریکا، روس، یورپ اور جاپان میں تیار کیے گئے حصے خلا میں جوڑے گئے جبکہ اسپیس شٹل کا روبوٹک بازو اس کام میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا۔
قابلِ استعمال جگہ

یہ جگہ زمین پر ایک 6 کمروں کے گھر کے برابر ہے مگر زیرو گریویٹی میں دیوار، چھت اور فرش سب برابر اہمیت رکھتے ہیں۔
خلا باز بعض اوقات جان بوجھ کر ’الٹی دنیا‘ کے دن بھی مناتے ہیں۔
روزانہ ورزش
خلا میں قیام انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے خلا باز روزانہ 2 گھنٹے ورزش کرتے ہیں۔
سنہ 2016 میں برطانوی خلا باز ٹم پیک نے خلا میں میراتھن دوڑنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
پانی کی ری سائیکلنگ
آئی ایس ایس پر تقریباً تمام پانی دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔
سانس، پسینہ اور پیشاب تک صاف ہو کر پینے کے قابل بنائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ’آج کا پیشاب، کل کی کافی‘۔
شائع شدہ تحقیقی مقالے
یہ تحقیق طب، ادویات، مٹیریلز، انسانی صحت اور نئی ٹیکنالوجیز پر محیط ہے۔
کئی تجربات کا مقصد زمین پر بیماریوں کا علاج تلاش کرنا ہے۔
سب سے زیادہ عمر والا خلا باز
ڈان پیٹٹ 70 سال کی عمر میں آئی ایس ایس پر قیام کرنے والے معمر ترین خلا باز ہیں جبکہ جان گلین 77 سال کی عمر میں خلا کا سفر کر چکے تھے۔
طویل ترین مشن

ناسا کے خلا باز فرینک روبیو نے 371 دن خلا میں گزارے جبکہ روسی خلا باز ویلیری پولیاکوف کا مجموعی ریکارڈ 437 دن ہے۔
کیوپولا کھڑکی کے شیشے کی موٹائی
یہ کھڑکی خلا بازوں کو زمین کا شاندار نظارہ فراہم کرتی ہے اگرچہ اس نظارے میں کھو جانا روزمرہ شیڈول کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
خلا میں بجایا گیا ڈیجری ڈو
کینیڈین خلا باز ڈان پیٹٹ نے ویکیوم کلینر سے موسیقی کا آلہ بنا کر خلا میں منفرد تجربہ کیا۔
سلیپنگ بیگ کی لمبائی
خلا باز دیوار سے بندھے سلیپنگ بیگز میں سوتے ہیں جہاں شور، روشنی اور بے وزنی نیند کو مشکل بنا دیتی ہے۔
بیت الخلا

خلا میں بیت الخلا کی مرمت ایک بڑا چیلنج ہے۔
خلا باز کرس ہیڈفیلڈ کے مطابق خلا میں ٹوائلٹ ٹھیک کرنا ان کے مشن کا یادگار لمحہ تھا۔
خلا میں بنی کوکیز
سنہ2019 میں خلا میں 5 چاکلیٹ چِپ کوکیز بنائی گئیں مگر انہیں زمین پر واپس لا کر جانچ کے بعد ہی کھانے کی اجازت دی گئی۔
خلائی ملبے سے بچاؤ کی تدابیر
خلائی ملبے کے خطرے کے باعث آئی ایس ایس کو اب تک 40 مرتبہ راستہ بدلنا پڑا۔
طویل ترین اسپیس واک
سنہ2001 میں تقریباً 9 گھنٹے طویل اسپیس واک کی گئی جبکہ ایک موقع پر خلا باز کے ہیلمٹ میں پانی بھرنے کا خطرناک واقعہ بھی پیش آیا۔
کینیڈا آرم کے جوڑ
کینیڈا کا روبوٹک بازو ’کینیڈا آرم 2‘ آئی ایس ایس کی تعمیر اور مرمت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
خلائی سیاح
اب تک 13 نجی افراد آئی ایس ایس کا سفر کر چکے ہیں جن کے لیے مہینوں کی تربیت لازمی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جرمن انجینیئر میکائیلا بینٹ خلائی سفر پر جانے والی پہلی جسمانی معذور شخصیت بن گئیں
ایک دن میں مدار
آئی ایس ایس 24 گھنٹوں میں زمین کے گرد 16 چکر لگاتا ہے۔
اس دوران خلا باز 16 سورج طلوع اور غروب ہوتے دیکھتے ہیں۔
ایک نشست کی قیمت
آج خلائی اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے ایک نشست کی اوسط قیمت تقریباً 55 ملین ڈالر ہے۔
اسٹیشن پر موجود اشیا

ہم سب گھروں میں چیزیں رکھ کر بھول جاتے ہیں لیکن ذرا تصور کریں کہ آپ کوئی چیز رکھیں اور وہ تیرتی ہوئی کہیں اور چلی جائے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر یہ صورتحال اکثر پیش آتی ہے اس لیے اسٹیشن کی سطحوں اور خلا بازوں کے لباس پر جگہ جگہ ویلکرو (چپکنے والی پٹیاں) لگی ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں: سیارہ زحل پر زندگی کے مزید آثار مل گئے، سائنسدانوں کے نزدیک اہم ترین پیشرفت
خواہ وہ نہایت اہم تکنیکی آلات ہوں یا بیت الخلا کا ٹوائلٹ پیپر اسٹیشن پر موجود سامان کا حساب رکھنے کے لیے تقریباً ہر شے پر بارکوڈ اور/یا سیریل نمبر درج ہوتا ہے۔
اس پورے نظام کی نگرانی مشن کنٹرول میں موجود ایک مخصوص افسر کرتا ہے جس کو انوینٹری اسٹوریج آفیسر کہا جاتا ہے۔
یوں اگر خلا بازوں کے پاس کبھی ٹوائلٹ پیپر ختم ہو جائے تو انہیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کس کو فون کرنا ہے۔
مجموعی لاگت
آئی ایس ایس کی مکمل لاگت کا درست اندازہ ممکن نہیں مگر اسے انسانی تاریخ کے مہنگے ترین منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن صرف ایک سائنسی تجربہ نہیں بلکہ انسانیت کی مشترکہ جدوجہد کی علامت بھی ہے۔
مزید پڑھیے: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
یہ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ علم، تعاون اور عزم کے ذریعے خلا جیسے مشکل ماحول میں بھی نئی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔














