وی ایکسکلوسیو: پی آئی اے کی نجکاری کا حامی ہوں، مقصد فائدہ کمانا نہیں مسلسل نقصان سے بچانا ہے، شاہد خاقان عباسی

جمعرات 25 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعظم اور سابق وفاقی وزیر ہوا بازی شاہد خاقان عباسی نے پی آئی اے کی نجکاری کو ’حکومتی خسارہ روکنے‘ کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے لیے ایئر لائن چلانا اب قابلِ عمل نہیں رہا، کیونکہ سرکاری شعبہ مسابقتی مارکیٹ میں بروقت فیصلے نہیں کر پاتا۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نجکاری کا بنیادی مقصد فائدہ کمانا نہیں بلکہ ٹیکس دہندگان کو مسلسل نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔

’پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا‘

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ وہ 1998 سے پی آئی اے کی نجکاری کی بات کر رہے تھے اور ان کے بقول 1999 تک پی آئی اے پر حکومت کا کوئی قرض، گارنٹیز یا مالی خسارہ نہیں تھا، مگر نجکاری میں تاخیر سے ان کے اندازے کے مطابق اب تک قریباً 5 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے بعد حکومت ایئر لائن نہیں چلائے گی اور اگر نقصان ہوا بھی تو اس کا بوجھ نجی شعبہ برداشت کرے گا، ٹیکس دہندہ نہیں۔

نجکاری کی رقم ’10 ارب یا 55 ارب’ کی بحث

انٹرویو میں نجکاری کی رقم پر جاری بحث کا ذکر بھی ہوا، جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ رقم مختلف اندازوں میں سامنے آ رہی ہے۔

انہوں نے ٹرانزیکشن کو تین حصوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ابتدائی مرحلے میں حکومت کو قریباً 10 ارب روپے ملنے کی بات سامنے آئی، جبکہ دیگر آپشنز کی صورت میں مجموعی رقم 25 سے 30 ارب تک جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کے واجبات کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے نجی خریدار کیسے سیٹل کرے گا، یہ اہم معاملہ ہے، اگرچہ حکومت کے کھاتے سے کچھ بوجھ کم ہونے کی توقع ہے، مگر ان کے مطابق حکومت کے ذمہ سینکڑوں ارب کا خسارہ پھر بھی باقی رہ سکتا ہے۔

’ایئر بلیو کی کم بولی پر تبصرہ‘

ایئر بلیو کی ممکنہ کم بولی پر سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ وہ ایئر بلیو کے بورڈ میں نہیں اور نہ ہی بولی کے عمل میں شامل تھے، تاہم ان کے مطابق ہر ادارہ اپنے وسائل اور ان کے بہتر استعمال کو دیکھ کر بڈ کرتا ہے، اور ممکن ہے وسائل کا مزید بہتر استعمال کرکے زیادہ رقم کی گنجائش نکلتی۔

ملازمین کا کیا ہوگا؟

پی آئی اے کے ملازمین کے مستقبل سے متعلق سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ان کے خیال میں ملازمین کو ایک سال کی پروٹیکشن دی گئی ہے۔ انہوں نے پی آئی اے کی مجموعی افرادی قوت کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے کہاکہ 70 فیصد لوگ اچھا کام کرتے ہیں، جبکہ 30 فیصد ایسے ہیں جو نظام کو کام نہیں کرنے دیتے۔

ان کے مطابق نجی شعبہ انتظامی طور پر اس صورتحال کو منیج کر لے گا اور کم نوکریاں ختم ہوں گی، بلکہ ان کے اندازے میں ادارے کی بہتری کی صورت میں مزید نوکریاں پیدا بھی ہو سکتی ہیں۔

پی آئی اے کہاں غلط ہوئی؟

پی آئی اے کے زوال پر گفتگو میں سابق وزیراعظم نے کہاکہ ماضی میں پی آئی اے کو مضبوط ادارہ بنانے میں اصغر خان اور نور خان جیسے افراد کا کردار تھا، تاہم ان کے مطابق جیسے ہی مارکیٹ میں مسابقت بڑھی، سرکاری شعبہ فیصلہ سازی کی رفتار اور آزادی نہ ہونے کے باعث مقابلہ نہ کر سکا۔

انہوں نے کہاکہ دنیا کے بیشتر ممالک بتدریج ایئر لائنز چلانے کے حکومتی ماڈل سے نکل گئے، بھارت بھی چند سال پہلے اس سمت میں گیا اور اب پاکستان نے بھی یہ قدم اٹھایا ہے۔

’اصل بڑا خسارہ پاور سیکٹر میں ہے‘

دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ملک میں سب سے بڑا نقصان بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں ہو رہا ہے، جہاں ان کے مطابق سالانہ نقصان 700 ارب سے ایک ہزار ارب تک ہے۔

انہوں نے ریلوے کی نجکاری کی حمایت کی تاہم تعلیم اور صحت کو حکومت کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ریگولیٹ نہیں کر پاتے، خواہ پاور سیکٹر ہو، گیس ہو یا ایوی ایشن ہو۔

سیاست اور ریاستی نظام: ’ملک اٹکا ہوا ہے‘

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ مسئلہ صرف کسی ایک شخصیت یا حکومت کا نہیں، پورا ملک اٹکا ہوا ہے، اور ان کے مطابق رول آف لا کمزور ہونے سے نفرت، تقسیم اور عدم اعتماد بڑھتا ہے، جس کا براہ راست اثر معیشت اور روزگار پر پڑتا ہے۔

عمران خان کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کو عدالتوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تاریخ کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ سیاسی فیصلے عوامی سیاست کو مکمل طور پر نہیں روک پاتے۔

احتساب یا ٹروتھ کمیشن؟

احتساب سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان میں احتساب کا نعرہ تو لگتا ہے، لیکن اگر حقیقی معنوں میں یہ عمل کیا جائے تو ادارے خالی ہو جائیں گے، اس لیے ان کے بقول ملک کو ٹروتھ کمیشن جیسے ماڈل کی طرف جانا چاہیے، یعنی سزا کے بجائے حقائق کو دستاویزی شکل میں سامنے لایا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ہوتا کیا رہا ہے۔

اصلاحات: ’نیا انتظامی ڈھانچہ، چھوٹے صوبے‘

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ موجودہ نظام میں پولیس، تعلیم، صحت، این ایف سی اور مجموعی گورننس ناکام ہو چکے ہیں اور ان کے مطابق ملک کو نئے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ آبادی بڑھنے اور مسائل میں اضافے کے بعد چار بڑے صوبوں کے ساتھ مؤثر انتظام ممکن نہیں رہا، اس لیے چھوٹے صوبوں کی طرف جانا پڑے گا۔

انہوں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتظامی ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہاں بعض معاملات میں نظام نسبتاً بہتر دکھائی دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟