آسٹریلیا نے جرمن نازی علامات کی نمائش کرنے پر 43 سالہ برطانوی شہری کا ویزا منسوخ کرکے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس شخص کو اس ماہ کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا، کیونکہ اس پر الزام ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پر نازی لوگو کی تصویر شیئر کی، نازی نظریات کی ترویج کی اور یہودی کمیونٹی کے خلاف تشدد کی ترغیب دی۔
یہ بھی پڑھیے: ’اسرائیلی بیانیہ نازی پروپیگنڈا جیسا ہے‘، جرمنی میں اردن کی ملکہ رانیہ کا خطاب
برسبین میں اس شخص کو اس ہفتے امیگریشن ڈیٹینشن میں رکھا گیا اور جنوری میں اسے عدالت میں پیش ہونے کا سامنا ہے۔ پولیس نے حالیہ عرصے میں یہودی مخالف رویے اور دائیں بازو کی انتہا پسندی میں اضافے کے پیش نظر ممنوعہ علامات کے استعمال پر کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔
ہوم افیئرز کے وزیر ٹونی برک نے کہا کہ وہ یہاں نفرت پھیلانے آیا، اسے رہنے کی اجازت نہیں۔ برک نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے گفتگو میں کہا کہ اگر آپ ویزے پر آسٹریلیا آتے ہیں، تو آپ یہاں مہمان کے طور پر ہیں۔
گزشتہ ماہ، برک نے میتھیو گروٹر کا ویزا بھی منسوخ کر دیا تھا، جو جنوبی افریقہ کا شہری ہے اور 2022 سے آسٹریلیا میں مقیم تھا، کیونکہ وہ نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ کے سامنے ایک نازی ریلی میں شریک دیکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کی نامزد خاتون سربراہ کا نازی تعلق کیا ہے؟
اس سال کے آغاز میں، آسٹریلیا نے نفرت انگیز جرائم کے قوانین سخت کیے ہیں، جن میں نفرت انگیز علامات دکھانے یا نازی سلام دینے پر لازمی جیل کی سزا شامل ہے۔
پولیس نے اکتوبر میں اس برطانوی شخص کی سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی تھیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے اس کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا، جس کے بعد اس نے ایک نیا اکاؤنٹ بنایا اور اسی نام سے جارحانہ مواد پوسٹ کرنا جاری رکھا۔














