پیپلز پارٹی کی جانب سے مفاہمت کی سیاست پر زور، کیا یہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کا اشارہ ہے؟

پیر 29 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعظم پاکستان شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی پر گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی بحران کا خاتمہ ضروری ہے، اور یہ کام صدر زرداری ہی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شہید بے نظیر بھٹو کا آخری پیغام مفاہمت تھا، مفاہمت کی کامیابی کے لیے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا، 9 مئی جیسے حملے اور اداروں کو گالیاں دینا سیاست کے دائرے میں نہیں آتا۔

مزید پڑھیں: ایک بیوقوف آدمی نے ساری دنیا سے تعلقات خراب کردیے تھے، آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید

اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہاکہ بی بی کی شہادت ہمیں تقسیم کرنے کا دن تھا مگر میں نے بے نظیر کی روح جو کہہ رہی تھی اُس کے مطابق پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے دونوں مرکزی رہنماؤں کی جانب سے یہ بیانات کیا پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک پیغام تھا کہ وہ احتجاجی سیاست کو چھوڑ کر مفاہمت کی سیاست کریں یا ان بیانات کے پیچھے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان طاقت اور اختیارات کی کوئی کشمکش ہے؟ اس سلسلے میں ہم نے سیاسی ماہرین سے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف بھی مفاہمت چاہتی ہے: احمد بلال محبوب

پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر احمد بلال محبوب نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مفاہمت کی سیاست کے حوالے سے جو باتیں صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے کی ہیں یہ وزیراعظم کی اُس پیش کش کا تسلسل نظر آتی ہیں جو اُنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دے کر کی تھیں۔

انہوں نے کہاکہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں نے یہ سوچا سمجھا ایک مؤقف اپنایا ہے اور پاکستان تحریک اِنصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بھی ایک طرح سے حکومت کی پیش کش پر مثبت ردعمل دیا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کرے گی۔

احمد بلال محبوب نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اس سلسلے میں ابتدائی قدم تو اُٹھا لیا ہے اب دوسرے قدم کے طور پر اُنہیں سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ مخالف پروپیگنڈا بند کر دینا چاہیے جس سے بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت ان مذاکرات میں براہِ راست عمران خان کو انگیج تو نہیں کرے گی لیکن پی ٹی آئی کی باہر موجود قیادت سے مذاکرات ہوں گے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں سب ٹھیک نہیں، طاہر خلیل

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر خلیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جو مفاہمت اور مذاکرات کی باتیں کی ہیں، ظاہر ہے مذاکرات کا ایک ہی فریق ہے اور وہ پی ٹی آئی ہے، لیکن پیپلز پارٹی کا حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنا ایک ٹول ہے اور اس کا ایک پس منظر ہے۔

’وہ پس منظر یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ ابھی متحدہ عرب امارت کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے تو صدرِ مملکت کی اُن سے ملاقات نہیں ہوئی جس کو محسوس کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے پہلی بار محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر ایک وفد گڑھی خدا بخش بھیجا جس میں رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق اور طارق فضل چوہدری شامل تھے۔‘

انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے اس طرح کا سیاسی وفد کبھی بھی نہیں بھیجا گیا۔ اب وہاں پر کیا بات چیت ہوئی یہ بھی سامنے آ جائے گی لیکن بلاول بھٹو زرداری نے جس طرح سے کہاکہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بہت بڑے بڑے فیصلے کیے ہیں تو یہ ایک اشارہ تھا کہ اب وہ 28ویں ترمیم کا بوجھ نہیں اُٹھا پائیں گے۔

طاہر خلیل نے کہاکہ پیپلز پارٹی ممکنہ 28 ویں ترمیم کے حوالے سے تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے، وہ حکومت سے کہہ رہی ہے کہ اُس کے ایم این ایز کو بھی حکومتی ایم این ایز کی طرح سے ترقیاتی فنڈز دیے جائیں۔

’پیپلزپارٹی کو نئے صوبوں سمیت دیگر معاملات پر تحفظات ہیں‘

انہوں نے کہاکہ دوسرا جو کہا گیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جائے گا، اُس پر پیپلز پارٹی کے تحفظات ہیں اور تیسرا نئے صوبوں کی بات پر بھی پیپلز پارٹی کو اتفاق نہیں۔

’اس لیے پیپلز پارٹی ایک طرف مفاہمت اور مذاکرات کے حق میں بیانات دے کر پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز کا اعتماد جیتنا چاہتی ہے تو دوسری طرف حکومت کو اُن مذاکرات کے لیے تیار ہونے پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھے۔‘

مزید پڑھیں: بینظیر بھٹو کی برسی پر جلسہ: 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاسی دائرے میں نہیں آتا، بلاول بھٹو

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا پنجاب میں بہت بڑا ووٹ بینک ہے۔ پیپلز پارٹی نے جو مفاہمت اور مذاکرات کی بات کی ہے وہ پی ٹی آئی ووٹر کو خوش کرنے کے لیے کی ہے اور ساتھ ہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ حکومت ان مذاکرات میں جائے اور اُس پر دباؤ مزید بڑھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

عماد وسیم کی دھمکیاں منظر عام پر، سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے واٹس ایپ چیٹس شیئر دیں

عمران خان کیخلاف شہباز شریف کے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روک دی گئی

راجوڑی میں عسکریت پسندوں سے بھارتی فوج کی جھڑپیں، 4 اہلکار ہلاک، متعدد شدید زخمی

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین نے عماد بٹ پر لگی 2 سال کی پابندی ہٹادی

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب