18 ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی، بلاول بھٹو

پیر 29 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ شہر کو ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام پارٹی کے ساتھ تعاون کریں تو سندھ ترقی کرے گا۔

لاڑکانہ میں شہید محترمہ بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی کے 7ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کا کسی صوبے سے نہیں بلکہ اب دنیا سے مقابلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کلیکشن میں سندھ سب سے آگے، معیشت کو ڈنڈے کے زور پر نہیں چلایا جا سکتا، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے فارغ التحصیل طلبا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں۔

طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ نے اب عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے اور اپنے صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینی ہیں۔۔

انہوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کو بھی کسی وبا کا سامنا ہوا، ہمارے ڈاکٹروں اور نرسوں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے صحت کے شعبے میں سندھ کی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں شعبہ صحت کو ترجیح دی گئی۔

مزید پڑھیں: صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا لاہور آنے کا مقصد کیا تھا؟

’ہم صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

بلاول بھٹو نے نے بینظیر بھٹو کے مشن کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ بنیادی حقوق کی بات کرتی رہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج صرف ڈگریاں نہیں دی جا رہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا چیلنج بھی دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کو انتہا پسندی چھوڑ کر سیاست کے دائرے میں آنا چاہیے، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی علاج فراہم کرنا ہر ڈاکٹر کا فرض ہے اور وائیٹ کوٹ صرف لباس نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور یقین کی نشانی ہے۔

بلاول بھٹو کے مطابق ایک اچھا ڈاکٹر وہی ہوتا ہے جو اچھا انسان بھی ہو۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبا کی کامیابی کا سہرا والدین کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ آج کی اس کامیابی میں والدین کا کردار قابلِ تحسین ہے۔

مزید پڑھیں: سیاست نہیں ہماری بات کریں، بالکونی میں کھڑی خاتون اور بلاول بھٹو کے درمیان دلچسپ مکالمہ

واضح رہے کہ کانووکیشن کے موقع پر مجموعی طور پر 317 گریجویٹس میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں، ان میں چانڈکا میڈیکل کالج کے 115، مہران میڈیکل کالج سکھر کے 29، بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کے 29، بینظیر نرسنگ کالج کے 80، انسٹیٹیوٹ آف فارمیسی کے 29 اور انسٹیٹیوٹ آف فزیوتھراپی کے 35 گریجویٹس شامل تھے۔

تقریب میں 38 طلبہ کو سونے، چاندی اور کانسی کے تمغوں سے نوازا گیا جبکہ سب سے زیادہ گولڈ میڈلز طالبات نے حاصل کیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا

  خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟