متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں موجود انسدادِ دہشتگردی یونٹس کا مشن رضاکارانہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔
یو اے ای کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ پیشرفت کے بعد جامع جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، سعودی وزارت خارجہ
وزارت دفاع کے مطابق یہ عمل متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
وزارتِ دفاع نے واضح کیاکہ یہ اقدام موجودہ مرحلے کے تقاضوں کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور خطے میں امن و استحکام کی حمایت کے لیے متحدہ عرب امارات کے کردار اور وعدوں کے عین مطابق ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات 2015 سے عرب اتحاد کا حصہ رہا ہے، جس کا مقصد یمن میں جائز حکومت کی حمایت، دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کی معاونت اور برادر یمنی عوام کے لیے امن و استحکام کا حصول ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے یو اے ای نے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی یمن کے جنوبی صوبوں میں عسکری نقل و حرکت پر تشویش، کشیدگی ختم کرنے پر زور
بیان کے مطابق یو اے ای کی مسلح افواج نے متفقہ سرکاری فریم ورک کے تحت تفویض کردہ مشنز کی تکمیل کے بعد 2019 میں یمن میں اپنی فوجی موجودگی کا اختتام کر دیا تھا، جبکہ اس کے بعد صرف محدود اور خصوصی نوعیت کے اہلکار انسداد دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت موجود تھے۔














