خطے کے دفاع کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، سفارتکار جاوید حفیظ

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب میں بطور قونصلر اور دیگر کئی ممالک میں بطور سفیر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سفارتکار جاوید حفیظ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے عرب ممالک کی حفاظت کا بھرم ٹوٹ جانے کے بعد اب انہیں مقامی سیکیورٹی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر کو قائدانہ کردار ادا کرنا پڑے گا۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اِس خطے کے ممالک کو نہ صرف اپنی سیکیورٹی کے لیے خود انتظامات کرنے ہوں گے بلکہ مِل کر دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب ان 4 ممالک کو فوجی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کا منفرد تعلق

سفارتکار جاوید حفیظ نے کہاکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال براہ راست پاکستان کو بھی متاثر کرتی ہے اِس لیے ہم اِس صورتحال کو بہت باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں، ہمیں بدلتی ہوئی صورتحال پر ہر وقت ردعمل دینے کی ضرورت ہے جو اب تک بڑا کامیاب رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اِس وقت صورتحال خاصی مخدوش ہے اور پاکستان کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بھی ہے کیونکہ ہمارے لاکھوں پاکستانی مشرقِ وسطیٰ سے روزگار کماتے ہیں۔ لاکھوں لوگ ہر سال عمرے اور حج کے لیے سعودی عرب بھی جاتے ہیں۔ تو ہمارا نا صرف یہ کہ معاشی بلکہ روحانی تعلق بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ ہم لوگ ایک ہی خطے میں رہتے ہیں اس لیے پاکستان صورتحال کو بہت باریک بینی سے دیکھ رہا ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے امریکا کا کمزور ہوتا ہوا سیکیورٹی کردار

سفارتکار جاوید حفیظ نے کہاکہ عرب ممالک کے حوالے سے امریکا کا سیکیورٹی کردار کم ہوا ہے۔ یہ ممالک سمجھ رہے تھے کہ ہم نے امریکا کو اڈّے فراہم کیے ہیں تو ہم محفوظ ہیں، لیکن یہ بات درست ثابت نہیں ہوئی بلکہ الٹا اُن اڈّوں کی وجہ سے حملے کیے گئے۔ اِس خطے میں امریکا کے سیکیورٹی کردار کے حوالے سے اب ازسرِنو سوچ بچار کرنا ہوگی۔

جاوید حفیظ نے 17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے کے پس منظر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جب اسرائیل نے قطر میں حماس کی لیڈر شپ کو نشانہ بنایا تو عرب ممالک کے اندر یہ احساس پیدا ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اِس سے پہلے عرب ممالک یہ سمجھتے تھے کہ جب بھی ان پر حملہ ہوگا، امریکا ان کی مدد کو آئے گا لیکن جب اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا اور یہ پتا چلا کہ امریکا کو اِس حملے کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا اور پھر بھی حملہ ہوا اور اُسے روکا نہیں گیا۔

انہوں نے کہاکہ خلیجی ممالک نے سوچا کہ ہمیں اپنے دفاع کے لیے کوئی مقامی حل سوچنا ہو گا، جس کے لیے اُن کی نظر پاکستان پر پڑی۔ کیونکہ پاکستان کا ٹریک ریکارڈ بہت اچھا ہے۔ پاکستان عرب ممالک کو فوجی تربیت بھی دیتا چلا آیا ہے، اس لیے سعودی عرب کے اندر خاص طور پر یہ احساس تھا کہ جب بھی کوئی ایسا معاملہ ہوگا پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہوگا تو اس لیے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا۔

بطور مصالحت کار سعودی عرب کا کردار

جاوید حفیظ نے کہاکہ سعودی عرب خود بھی حملوں کا شکار رہا ہے، عرب ممالک کے پاس دنیا بھر کے ایک تہائی تیل اور گیس کے ذخائر ہیں، اور حالیہ جنگ نے پوری دُنیا کی معیشت کو ہِلا کے رکھ دیا ہے۔ سعودی عرب مغربی طاقتوں کو قائل کر سکتا ہے کہ اِس جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا