آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نئے سال کی آمد اس بار روایتی جوش و خروش کے بجائے غم، یکجہتی اور خراجِ عقیدت کے ماحول میں ہوئی۔
چند ہفتے قبل بونڈی بیچ میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے 15 افراد کی یاد میں ہزاروں افراد نے سڈنی ہاربر پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
یہ بھی پڑھیے: سال 2026 کا نیوزی لینڈ کے بعد سڈنی سے بھی رنگا رنگ آغاز، آتش بازی کا مظاہرہ
بونڈی بیچ حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے رات 11 بجے شہریوں نے اپنے موبائل فون کی لائٹس روشن کیں، جبکہ سڈنی ہاربر برج پر منورہ، امن کی علامت کبوتری نقش اور الفاظ ‘امن’ اور ‘اتحاد’ نمایاں طور پر روشن کیے گئے۔ یہ منظر دہشت گردی کے خلاف اجتماعی عزم اور متاثرہ یہودی برادری سے یکجہتی کی علامت تھا۔

حملے کے بعد شہر میں خوف کی فضا موجود رہی، تاہم عوام نے دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم کے تحت گھروں سے نکل کر یہ پیغام دیا کہ آسٹریلوی معاشرہ خوف کے آگے جھکنے والا نہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ہزاروں مسلح پولیس اہلکار تعینات رہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس موقع پر کہا کہ بانڈی بیچ حملے نے ہمیں دکھ ضرور دیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی عوام کی ہمت، ہمدردی اور اتحاد بھی دنیا کے سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیے: مشرقی وسطیٰ سے تعلق رکھنے والا سڈنی واقعے کا دوسرا ہیرو جسے دہشتگرد سمجھ کر فائر کھولا گیا
یاد رہے کہ 14 دسمبر کو بانڈی بیچ پر ہنوکا کی تقریب کے دوران دہشت گرد حملے میں 15 افراد جاں بحق اور 41 زخمی ہوئے تھے، جس نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا تھا۔
خاموشی کے اس لمحے کے بعد سڈنی ہاربر پر آتش بازی کی گئی، مگر اس بار یہ جشن کم اور شہدا کے نام ایک باوقار خراجِ عقیدت زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ عوام کا کہنا تھا کہ یہ اجتماع صرف نئے سال کی خوشی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا پیغام بھی تھا۔














