نئے سال کے آغاز پر استنبول میں ہزاروں افراد کا غزہ کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے شہر استنبول میں ہزاروں افراد نے نئے سال کے آغاز پر غزہ کی حمایت میں مارچ کیا۔

مظاہرین صبح سویرے استنبول کی مشہور مساجد میں جمع ہوئے جن میں حاجیہ صوفیہ گرانڈ مسجد، سلطان احمد، فاتح، سلیمانیہ، اور امینو نوو مسجد شامل ہیں۔ مظاہرین نے غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور مساجد کے صحنوں میں ترکی اور فلسطینی پرچم لہرا کر یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے: ’غزہ جل رہا تھا تو خاموشی، اب احتجاج کیوں؟‘، سوشل میڈیا صارفین کا ٹی ایل پی پر اعتراض

انہوں نے مزید بتایا کہ فٹ بال کلب بھی اپنے شائقین سے مظاہروں میں شرکت کی اپیل کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی ایک ایسا ہی مظاہرہ ہوا تھا جس کا انتظام صدر رجب طیب اردوان کے بیٹے بلال اردوان نے کیا تھا۔

سرد موسم کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد مظاہرے کے لیے موجود تھی۔ حکام نے سلطان احمد اسکوائر کے ارد گرد سخت حفاظتی اقدامات کیے، اور شرکا کے لیے گرم مشروبات بھی فراہم کیے گئے۔

نماز فجر کے بعد مظاہرین گالاتا برج کی جانب مارچ کیا، جس میں وزراء، سینیئر حکومتی عہدیدار اور ریاستی شخصیات بھی شریک ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران جنگ بندی سے اسرائیل ناخوش، امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں

جنگ بندی کی خلاف ورزی، لبنان کا پاکستان سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

وفاقی کابینہ اجلاس: اراکین کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟