’تضحیک کا نشانہ نہ بنائیں‘، عثمان خواجہ کا نسلی تعصب اور دوہرے معیار پر کھلا اظہار

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا کے تجربہ کار کرکٹر عثمان خواجہ نے ایشز سیریز کے آغاز پر اپنی انجری سے متعلق ہونے والی تنقید کو نسلی تعصب سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے پورے کیریئر میں نسل اور مذہب کی بنیاد پر دیگر کھلاڑیوں سے مختلف اور سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایس سی جی میں ریٹائرمنٹ کے اعلان کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان خواجہ نے پہلی بار کھل کر اس تکلیف کا اظہار کیا جو انہیں میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کی تنقید سے پہنچی۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان خواجہ کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، سڈنی ٹیسٹ کیریئر کا آخری باب ہوگا

عثمان خواجہ نے کہا کہ ایشز سیریز کے آغاز پر کمر کی انجری کے بعد ان پر گالف کھیلنے کو بنیاد بنا کر جو تنقید کی گئی، وہ محض کھیل تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ذاتی اور نسلی پہلو نمایاں تھے۔ ان کے مطابق انہیں 5 دن تک مسلسل نشانہ بنایا گیا، حالانکہ بات کارکردگی کی نہیں بلکہ ان کی نیت، تیاری اور کردار پر حملے کی تھی۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے اور آسٹریلیا کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے پہلے مسلمان کھلاڑی عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ انہیں ’سست‘، ’غیر سنجیدہ‘ اور ’خود غرض‘ جیسے القابات دیے گئے، جو وہی نسلی دقیانوسی تصورات ہیں جن کا وہ بچپن سے سامنا کرتے آئے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دیگر آسٹریلوی کھلاڑی بھی گالف کھیلتے ہوئے یا تفریحی سرگرمیوں کے دوران زخمی ہوئے، مگر انہیں اس نوعیت کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بعض کھلاڑیوں کے شراب نوشی کے واقعات کو بھی نظر انداز کیا گیا، لیکن جب وہ زخمی ہوئے تو ان کی ساکھ پر سوال اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ کی بیٹیوں کے ہمراہ نماز پڑھتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

عثمان خواجہ نے شیفیلڈ شیلڈ میچ نہ کھیلنے اور فارمولا ون گراں پری میں شرکت پر ہونے والی تنقید کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اسی دوران دیگر معروف کھلاڑیوں کی غیر حاضری پر میڈیا خاموش رہا، جس سے دوہرے معیار کا تاثر مضبوط ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ باتیں شہرت یا ہمدردی کے لیے نہیں کر رہے بلکہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں آنے والے کسی بھی عثمان خواجہ کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کیا جائے، بغیر نسل یا مذہب کو بنیاد بنائے۔ ان کے الفاظ میں ’میں ریس کارڈ نہیں کھیل رہا، بس یہ چاہتا ہوں کہ مجھے اور میرے بعد آنے والوں کو گیس لائٹ نہ کیا جائے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا

  خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟