اے آئی کی بڑھتی مانگ: کیا 2026 میں سمارٹ فونز مہنگے ہو جائیں گے؟

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی سطح پر اسمارٹ فون صارفین کو 2026 میں قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی میموری کی طلب قرار دی جا رہی ہے۔

عالمی مارکیٹ انٹیلی جنس ادارے انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (IDC) کی دسمبر 2025 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ریم (RAM) کی تیاری کا بڑا حصہ اب اسمارٹ فونز اور پرسنل کمپیوٹرز کے بجائے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاکھوں روپے کے موبائل چند ہزار روپے میں، اس کی حقیقت کیا ہے؟

اس تبدیلی کے باعث موبائل فون انڈسٹری کو میموری کی محدود دستیابی اور بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا ہے جس کا براہِ راست اثر صارفین تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق جس طرح اسمارٹ فونز کی بہتر کارکردگی کے لیے زیادہ میموری ضروری ہوتی ہے اسی طرح اے آئی ڈیٹا سینٹرز بھی زیادہ ریم کے بغیر مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ریم کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا مستقبل: 2026 میں سامنے آنے والے اہم رجحانات

IDC کا کہنا ہے کہ 2026 میں (DRAM) کی سپلائی میں سالانہ اضافہ صرف 16 فیصد متوقع ہے، جو تاریخی اوسط سے خاصا کم ہے۔ اس صورتحال میں ایپل، گوگل اور سام سنگ جیسے بڑے اسمارٹ فون مینوفیکچررز کی پیداواری لاگت بڑھنے کا امکان ہے۔

انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن کی سینئر ریسرچ ڈائریکٹر نبیلا پوپل کے مطابق ’آنے والا میموری بحران مارکیٹ کو شدید متاثر کرے گا، اور اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے پاس قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کے سوا کوئی خاص متبادل موجود نہیں ہوگا‘۔

دوسری جانب مارکیٹ ریسرچ فرم کاؤنٹرپوائنٹ کے مطابق 2026 میں عالمی اسمارٹ فون شپمنٹس میں 2.1 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ ریم کی قیمتیں سال کے دوسرے نصف تک 40 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟

کاؤنٹرپوائنٹ کے سینئر تجزیہ کار یانگ وانگ کا کہنا ہے کہ وہ کمپنیاں جن کے پاس مختلف قیمتوں کی کیٹیگریز میں مصنوعات موجود ہیں اس دباؤ کا بہتر مقابلہ کر سکیں گی جبکہ کم قیمت والے اسمارٹ فونز کی مارکیٹ سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل اور سام سنگ اس صورتحال سے نمٹنے کی نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہیں تاہم چھوٹی یا مالی طور پر کمزور کمپنیاں منافع اور مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں

کاؤنٹرپوائنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اوسط اسمارٹ فون فروخت قیمت میں 6.9 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں آئی فون 17 میکس کے بیس ماڈل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 1,281 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو 2025 میں اعلان کردہ 1,199 ڈالر سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آنے والے برسوں میں اسمارٹ فون انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟