ماہرین فلکیات نے ایک انوکھا فلکیاتی جسم دریافت کیا ہے جس میں کوئی ستارہ نہیں ہے، اور اسی لیے اسے ’ناکام کہکشاں‘ کہا جا رہا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ گیس کا بادل جسے Cloud-9 کا نام دیا گیا ہے، زمین سے قریباً 14 ملین نوری سال کے فاصلے پر ہے، اور عام روشنی میں قریباً نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: سال 2025 میں بیرونی سیاروں کی کھوج اور ناسا کے دیگر کارنامے
یہ کہکشاں ابتدائی کائنات کی باقیات ہے، جس میں گیس موجود ہے لیکن ستارے پیدا نہیں ہوئے۔ اس میں ڈارک میٹر بھی ہے، یعنی وہ غیر مرئی مادہ جو کائنات کے زیادہ تر حصے پر محیط ہے۔
View this post on Instagram
ناسا کے مطابق ابتدائی کائنات میں کچھ ڈارک میٹر halos نے گیس اکٹھی کی، مگر ستارے بنانے کا عمل شروع نہیں ہوا۔ اس نتیجے میں یہ منفرد بنا ستراوں کی کہکشائیں وجود میں آئیں، جو اب تک نظر انداز رہیں۔
مزید پڑھیں:مریخ مشن: ناسا کے خلائی جہاز نے چپ سادھ لی، وجہ سمجھ سے باہر
تاہم Cloud-9 کی دریافت ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ کہکشائیں کیسے بنتی ہیں یا کیوں کبھی پیدا نہیں ہو پاتیں۔














