چین نے سنہ 2027 تک بنیادی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجیز کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی یقینی بنانے اور اپنی صنعتی وسعت اور عالمی مسابقت برقرار رکھنے کا ہدف مقرر کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
جمعرات کو جاری ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 8 سرکاری اداروں نے مشترکہ طور پر ایک حکمت عملی جاری کی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح صنعتی جدید کاری کو فروغ دے گی اور اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ کو نئی سطح تک لے جائے گی۔
منصوبے کے تحت 100 اعلیٰ معیار کے صنعتی ڈیٹا سیٹس تیار کیے جائیں گے اور 500 نمائشی استعمال کے ماڈلز متعارف کرائے جائیں گے جبکہ 3 سے 5 عمومی نوعیت کے بڑے اے آئی ماڈلز کو تمام صنعتی شعبوں میں نافذ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مخصوص صنعتوں کے لیے بڑے اے آئی ماڈلز تیار کیے جائیں گے جو پورے صنعتی نظام کا احاطہ کریں گے اور چینی کمپنیوں کو صنعتی چینز میں اے آئی کے گہرے انضمام میں مدد فراہم کریں گے۔
مزید پڑھیے: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
چین کا ہدف ہے کہ سنہ 2027 تک 2 سے 3 عالمی معیار کے اے آئی ایکو سسٹم لیڈرز تیار کیے جائیں، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) کی معاونت کی جائے اور Schweizer ماڈل کے تحت اے آئی سہولت فراہم کرنے والے سروس پرووائیڈرز کی ترقی کو فروغ دیا جائے۔
منصوبے میں اوپن سورس اے آئی ایکو سسٹمز، سیکیورٹی گورننس اور چینی اے آئی حلوں کی بین الاقوامی برآمدات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
اہم ترجیحی شعبوں میں اے آئی چپس اور سافٹ ویئر کی ہم آہنگ ترقی، ماڈلز کی تربیت اور حقیقی وقت میں نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت نیز تربیتی ڈیٹا اور صنعتی الگورتھمز کا تحفظ شامل ہے۔
مزید پڑھیں: جاپانی خاتون نے اے آئی کریکٹر سے شادی رچالی
دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ متعلقہ صنعتوں میں خصوصی بڑے اے آئی ماڈلز کا استعمال اور بغیر رکاوٹ انضمام ناگزیر ہے تاکہ چین مصنوعی ذہانت میں جدت کی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے۔














