اگر آپ تہواروں کے دوران زیادہ کھا پی لیتے ہیں تو ممکن ہے اب جسم کو ’ڈیٹاکس‘ کرنے کے بارے میں سوچتے ہوں گے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارا جسم پہلے ہی قدرتی طور پر خود کو صاف کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے تاہم ہمیں صرف اس عمل میں مدد دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے درج ذیل سائنسی طور پر ثابت شدہ طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
زیادہ فائبر استعمال کریں
زیادہ تر لوگ روزانہ مطلوبہ مقدار سے بہت کم فائبر استعمال کرتے ہیں حالانکہ فائبر جسم کی صفائی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
فائبر آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے، فضلے کو نرم کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کے جسم میں قیام کا وقت کم کر دیتا ہے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فائبر زہریلے مادوں، بھاری دھاتوں اور فاضل بائل ایسڈز کو اپنے ساتھ باندھ کر جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے کولیسٹرول کم اور دل کی بیماریوں کا خطرہ گھٹتا ہے۔ فائبر جگر اور گردوں کو بھی نقصان دہ بیکٹیریا سے بچاتا ہے۔
فائبر کے بہترین ذرائع میں دالیں، چنے، لوبیا، سبز پتوں والی سبزیاں، خشک خوبانیاں، سیب، بیریز، گری دار میوے، بیج، دلیہ، ہول ویٹ روٹی اور پاستا شامل ہیں۔
مختلف اقسام کے فائبر کے فوائد حاصل کرنے کے لیے خوراک میں تنوع ضروری ہے۔
زیادہ پانی پیئیں
پانی گردوں اور جگر کو فضلہ اور زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پانی کی کمی سے جسم میں فاضل مادے جمع ہو سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً ڈیڑھ سے پونے 2 لیٹر پانی یا دیگر صحت بخش مشروبات (چائے، کافی، کم چکنائی والا دودھ) کافی ہوتے ہیں۔ مناسب مقدار میں پانی پینا گردے کی پتھری کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔
پھیپھڑوں کا خیال رکھیں
مارکیٹ میں پھیپھڑوں کو جلدی صاف کرنے کے دعوے کرنے والی کئی مصنوعات موجود ہیں مگر ماہرین انہیں غیر مؤثر بلکہ بعض اوقات خطرناک قرار دیتے ہیں۔
پھیپھڑوں کی صفائی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آلودگی سے بچا جائے۔ سگریٹ یا ویپنگ ترک کرنا سب سے اہم قدم ہے جبکہ دوسروں کے دھوئیں سے بھی بچنا چاہیے۔
گھریلو ہوا کو صاف رکھنے کے لیے تیز خوشبو والے اسپرے، موم بتیاں اور نقصان دہ کیمیکلز کے استعمال سے گریز کیا جائے۔
باقاعدہ ورزش خصوصاً تیز قدموں سے چلنا اور ایروبک ایکسرسائز، پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔
نیند کو ترجیح دیں
نیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق سوتے وقت دماغ کے اردگرد ایک خاص سیال گردش کرتا ہے جو دن بھر جمع ہونے والے فاضل مادوں اور نقصان دہ پروٹینز کو خارج کر دیتا ہے۔
نیند کی کمی اس عمل کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں یادداشت، توجہ اور فیصلہ سازی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اکثر افراد کے لیے روزانہ تقریباً 7 گھنٹے کی نیند ضروری ہے اگرچہ یہ ضرورت فرداً فرداً مختلف ہو سکتی ہے۔
فٹ اور متحرک رہیں
اگرچہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پسینے کے ذریعے زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں مگر سائنس اس دعوے کی حمایت نہیں کرتی۔
پسینہ دراصل جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
اصل میں ورزش جگر اور گردوں میں خون کی روانی بہتر بناتی ہے جس سے وہ زہریلے مادے زیادہ مؤثر طریقے سے فلٹر کر پاتے ہیں۔
ورزش جگر میں چربی کم کرنے اور گردوں کی کارکردگی برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
تیز واک، سائیکل چلانا، تیراکی، باغبانی، گھریلو کام یا سیڑھیاں چڑھنا بھی فائدہ مند ہیں۔ اہم بات مستقل مزاجی ہے نہ کہ وقتی جوش۔
مستقل طرز زندگی ہی اصل حل
ماہرین کے مطابق وقتی ڈیٹاکس ڈائٹس یا چند ہفتوں کے تجربات کے بجائے طویل المدتی صحت مند طرز زندگی زیادہ مؤثر ہے۔
متوازن غذا، مناسب ورزش، اچھی نیند اور اعتدال میں رہ کر کھانا پینا ہی جسم کو قدرتی طور پر صحت مند رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
مختصر یہ کہ اگر آپ واقعی صحت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سائنسی بنیادوں پر مبنی عادات اپنائیں اور انہیں چند ہفتوں نہیں بلکہ مستقل طور پر زندگی کا حصہ بنائیں۔














