پاکستان کے فضائی حملوں میں کابل کے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے دعوؤں کی پاکستان کی جانب سے تردید

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاک فضائیہ کے حملوں میں ‘امید ہسپتال’ کو نشانہ بنایا گیا۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق مذکورہ اسپتال درحقیقت کیمپ فینکس سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے، جبکہ کارروائی گزشتہ رات ایک ایسے مقام پر کی گئی جہاں عسکری اور دہشت گردی کے اسلحہ و سازوسامان کو ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

وزارت کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے، جس کا عسکری ڈھانچے سے کوئی تعلق نہیں، اور اس کی تصاویر بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ‘حقائق اور دعوؤں میں واضح فرق موجود ہے’۔

ایکس پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ مبینہ منشیات بحالی مرکز کو کسی فوجی نوعیت کے مقام کے قریب کیوں قائم کیا گیا، جہاں مہلک گولہ بارود موجود تھا۔ یہ معاملہ اب بھی جواب طلب ہے۔

یہ بھی پڑھیے: تیراہ سے رضاکارانہ نقل مکانی ہورہی ہے، اسے فوج سے منسوب کرنا بددیانتی ہے، وزارت اطلاعات

وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے وہ ابتدائی پوسٹ اور ویڈیو بھی حذف کر دی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘منشیات بحالی مرکز’ کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ مواد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیا گیا تھا جو مختلف فیکٹ چیکس کے سامنے برقرار نہ رہ سکا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اپنی متنازع اور مبینہ طور پر من گھڑت پوسٹ سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp