پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاک فضائیہ کے حملوں میں ‘امید ہسپتال’ کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق مذکورہ اسپتال درحقیقت کیمپ فینکس سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے، جبکہ کارروائی گزشتہ رات ایک ایسے مقام پر کی گئی جہاں عسکری اور دہشت گردی کے اسلحہ و سازوسامان کو ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات
وزارت کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے، جس کا عسکری ڈھانچے سے کوئی تعلق نہیں، اور اس کی تصاویر بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ‘حقائق اور دعوؤں میں واضح فرق موجود ہے’۔
🔎 Fact Check | Ministry of Information and Broadcasting
Why Afghan official handle has deleted this post / video? The first official post which claimed that some “ drug rehab” has been hit has been deleted !
Was this generated and AI clip that could not stand the multiple… pic.twitter.com/zz4ysOF8MC
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 17, 2026
ایکس پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ مبینہ منشیات بحالی مرکز کو کسی فوجی نوعیت کے مقام کے قریب کیوں قائم کیا گیا، جہاں مہلک گولہ بارود موجود تھا۔ یہ معاملہ اب بھی جواب طلب ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیراہ سے رضاکارانہ نقل مکانی ہورہی ہے، اسے فوج سے منسوب کرنا بددیانتی ہے، وزارت اطلاعات
وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے وہ ابتدائی پوسٹ اور ویڈیو بھی حذف کر دی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘منشیات بحالی مرکز’ کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ مواد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیا گیا تھا جو مختلف فیکٹ چیکس کے سامنے برقرار نہ رہ سکا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اپنی متنازع اور مبینہ طور پر من گھڑت پوسٹ سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں۔














