افغانستان اور طالبان کے حوالے سے چند ایک باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت بار بار کرنا پڑ جاتی ہے، مگر ہر کچھ عرصے کے بعد پھر وہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ یہ دانستہ کیا جاتا ہے اس اصول کے تحت کہ زیادہ سے زیادہ غلط بیانیہ پھیلایا جائے، اتنا جھوٹ بولا جائے کہ سچ چھپ جائے۔ بدقسمتی سے پچھلے 20، 25 برسوں میں لاکھوں افغان پاکستان میں مقیم رہے، یہاں کے تعلیمی اداروں سے یہ پڑھتے رہے، اردو اچھی لکھ اور بول لیتے ہیں۔ ان میں سے جو کراچی وغیرہ میں پڑھے اور رہے وہ تو تذکیر وتانیث کی غلطیوں سے بالکل پاک اردو لکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان میں سے بہت سے آج کل ایکٹو ہیں اور ہر جگہ پاکستان کے خلاف اور افغانستان کے حق میں پوسٹیں کرتے، کمنٹس لکھتے رہتے ہیں۔
گزشتہ روز میری ایک پوسٹ پر بھی ایسا معاملہ دیکھنے کو ملا۔ ایک صاحب ہر کمنٹ کے جواب میں اپنا زہریلا کمنٹ داغ دیتے۔ ان کا پروفائل دیکھا تو کابل کے رہنے والے تھے اور آج کل سوات میں رہائشی لکھا تھا۔ نام ان کا وہی پشتونوں والا جو عام طور پختون خوا میں رکھے جاتے ہیں۔ کون پہچان پائے گا کہ یہ کوئی کابلی افغان ہے یا پاکستانی ناراض پشتون؟یہ تو اس کی پروفائل سے پتہ چل گیا، مگر کئی ایسے ہوشیار اور چالاک کہ اپنے فیس بک پروفائل سے بھی نہ پتہ چلنے دیں۔
اپنے دشمن کو ٹھیک سے پہچان لینا چاہیے
ہم پاکستانیوں کو چند باتوں میں اب کلئیر ہونا چاہیے۔ ہم صاف طور سے سمجھ لیں کہ کون ہمارا دوست اور کون ہمارا دشمن ہے؟ ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں جا چکے ہیں، ہمارے خلاف مغربی بارڈر پر بھی جنگ چھیڑی جا چکی ہے، ہمارے اوپر یہ پراکسی وار کی صورت میں مسلط ہے اور کھل کر افغان طالبان حکومت اسے سپانسرڈ اور سپورٹ کر رہی ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ صرف فوجی بیانیہ نہیں۔ حقیقت اور سچ کو ماننا پڑتا ہے خواہ اسے کوئی بھی بیان کرے۔ پاک فوج بیان کرے یا پولیس یا سیاسی حکومتیں۔ جیسے افواج پاکستان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے رافیل طیارے گرائے۔ ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے ابتدا میں شک کیا، مگر آج پوری دنیا مان چکی ہے۔ خود رافیل بنانے والے طیارے کے ماہرین بریفنگز میں صاف کہہ رہے ہیں کہ طیارے گرنے میں تکنیکی خامی نہیں تھی، پائلٹس کا قصور تھا۔ آج کوئی ہے جسے فوج کے اس بیانیہ میں شک ہو کہ پاک بھارت جنگ میں رافیل اور دیگر انڈین طیارے گرائے گئے ہیں؟ کوئی بھی نہیں۔ فوجی بیانیہ آخر درست نکلا۔ ایسا ہو جاتا ہے۔ اس لیے بیانیہ سویلین ہو یا فوجی اس کا تجزیہ کریں، اگر درست ہے تو ہرایک کوماننا ہی پڑے گا۔
کیا افغان طالبان ٹی ٹی پی کے سپورٹر ہیں؟
اس میں اب ذرا برابر بھی شک نہیں رہا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی دراصل افغان حکومت کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ اس لیے کہ دنیا کی کوئی بھی گوریلا تنظیم، دہشتگرد گروہ جب تک پیچھے سپلائی لائن موجود نہ ہو، لڑائی لڑ ہی نہیں سکتا۔ انہیں ایک سیف ہیون چاہیے ہوتی ہے جہاں ان کے اہل خانہ محفوظ رہ سکیں، جہاں وہ سکون سے بیٹھ کر پلاننگ کریں۔ جہاں سے انہیں رقم اور اسلحہ مل سکے۔ ان کے لوگ زخمی ہوں تو علاج کرائیں۔ پہاڑوں میں مسلسل لڑائی سے تھک جائیں تو پیچھے جا کر چند دن آرام کر سکیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بنیادی چیزیں ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں مسلح جدوجہد ہو رہی ہے، وہاں یہ ملیں گی۔
ٹی ٹی پی کے لوگ شمالی، جنوبی وزیرستان، وادی تیراہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ لوگ آخر پہاڑوں میں تو نہیں مسلسل چھپے رہ سکتے۔ پتھر تو نہیں چاٹ کر زندہ رہیں گے۔ ان سب کے اہل خانہ بھی ہیں، یہ گولی لگنے سے زخمی بھی ہوتے ہیں، موسموں کی شدت سے بیمار بھی۔ تو یہ سب آخر کہاں سے اپنا علاج کراتے، آرام کے چند دن گزارتے ہیں؟ پختون خوا میں تو ایسا نہیں کر سکتے کہ جگہ جگہ پر پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگ انہیں کھوجتے پھر رہے ہیں۔ یہ لوگ دراصل پیچھے افغانستان کے مختلف شہروں میں جا کر اپنے مخصوص کیمپوں میں وقت گزارتے، علاج وغیرہ کراتے ہیں۔
یہ بھی ممکن نہیں کہ ایساافغان طالبان کی مرضی اور منظوری کے بغیر ہو رہا ہو۔ میں سال پہلے افغانستان گیا تھا، پاکستانی میڈیا کے کئی لوگ تھے۔ کابل میں کئی طالبان لیڈروں کے انٹرویوز کیے، عام طالبان جنگجوؤں سے بھی بات ہوتی رہی۔ وہاں جگہ جگہ، چپے چپے پر طالبان کا جاسوسی نیٹ ورک ہے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی ایکٹوٹی ہو اور انہیں پتہ نہ چلے۔
پاکستان افغانوں کو خواہ مخواہ دشمن بنا رہا ہے؟
یہ بات بھی اب اکثر کہی جانے لگی کہ ’پاکستان خواہ مخواہ افغانوں کو دشمن بنا رہا ہے، مغربی سرحد پر جنگ چھیڑ رہا ہے۔‘ اس سوال کا جواب افغانوں سے پوچھنا چاہیے کہ آخر پاکستان نے تمہارا بگاڑا کیا ہے کہ ہر وقت ہر دور میں اس کے خلاف رہے ہو۔ چلیں آج تو افغانوں یا طالبان کو کوئی گلہ شکوہ ہوسکتا ہے، مگر 50 سال پہلے، 60 سال پہلے۔ 70 سال پہلے پاکستان نے ان کا کیا بگاڑا تھا؟ تب تو پاکستان میں فوج بھی حکمران نہیں تھی، آئی ایس آئی کا کسی نے نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ تب کیوں افغان حکمران پاکستان کے خلاف رہے، مسلسل سازشیں کرتے رہے۔ 47 میں پہلے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ پھر بعد میں بھی تنگ کرتے رہے۔ لیاقت علی خان کو شہید کرنے والا بھی ایک افغانی نکلا۔ پھر 65 کی جنگ میں باقاعدہ طور پر ظاہر شاہ نے افغان آرمی چیف کو بلا کر کہا کہ ہم پاکستان پر حملہ کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف نے کہا حضور! ہماری آرمی اتنی ہے ہی نہیں کہ ہم جنگ کر سکیں، تب شاہ ظاہر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ یہی رویہ سردار داؤد اور بعد والوں کا رہا، آخر کیوں؟
بھٹو نے ان کا کیا بگاڑا تھا؟ وہ تو فوجی حکمران بھی نہیں تھا، اس نے افغانوں کے خلاف کوئی سازش بھی نہیں کی تھی۔ سردار داؤد افغان صدر تھا، اس نے پختونستان کا سٹنٹ تب کیوں کھڑا کیا؟ اجمل خٹک کو کابل بلا کر کیوں مہمان بنایا گیا اور پھر خیر بخش مری وغیرہ کو بھی اپنے ساتھ رکھا گیا، پاکستان کے خلاف محاذ بنانے کے لیے۔ آخر کیوں؟
پاکستان نے افغانوں کا کیا بگاڑا تھا؟ تب تو روس بھی افغانستان نہیں آیا تھا، ابھی روس اور امریکا کے خلاف جنگ بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ آخر افغان پاکستان کی پوری قومی تاریخ میں پاکستان مخالف اور پاکستان دشمن کیوں رہے ہیں؟یہ سوال ان سے پوچھنا چاہیے۔
آج سوشل میڈیا پر ایکٹو افغان ایجنٹ ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ آپ نے پاک ہسٹری پڑھی ہے صرف۔ بھیا! ہمارا تو کام ہی کتابیں پڑھنا ہے، ان طعنہ دینے والے بے چاروں نے اتنی کتابیں کبھی دیکھی نہیں ہوں گی نہ نام سنے ہوں گے جتنے صرف میرے بیڈ روم میں دائیں بائیں رکھی ہیں۔ میری اپنی ذاتی لائبریری میں رکھی 8، 10 ہزار کتابیں تو الگ ہیں۔ ذرا یہ لوگ اپنی افغان تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ سردار داؤد کے وزیر عبدالصمد غوث کی کتاب پڑھ کر دیکھیں۔ ببرک کارمل دور میں کابل میں انڈین سفیر رہنے والے جے کے ڈکشٹ نے کتاب لکھی ’کابل ڈائری‘۔ میں نے یہ کتاب پی ڈی ایف میں پڑھی ہے۔ وہ اجمل خٹک، خیر بخش مری ، باچا خان وغیرہ سے ملتا رہا ، اس بارے میں دلچسپ مشاہدات بیان کیے۔ کبھی اس پر بھی لکھوں گا۔
پاکستان ہی گڈ طالبان، بیڈ طالبان بناتا رہا ہے؟
یہ طعنہ بھی اکثر دیا جاتا ہے۔ تاثر یہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستان جنہیں اب دہشتگرد کہہ رہا ہے، ماضی میں انہیں مجاہد کہا جاتا تھا۔ یہ بات بالکل غلط اور واقعات کے بالکل الٹ ہے۔ پاکستان نے کبھی ٹی ٹی پی کو مجاہد نہیں کہا، کبھی ان کی تعریف نہیں کی اور نہ کبھی انہیں بنایا۔
ٹی ٹی پی بنی کیسے؟ یہ کہانی مختصر الفاظ میں یوں کہ نائن الیون کے بعد عرب، ازبک، چیچن جنگجو پاکستانی قبائلی علاقوں خاص کر وزیرستان میں مقیم ہوگئے۔ جب افغان طالبان نے دو ہزار تین چار میں اپنی مسلح جدوجہد شروع کی تو یہ غیر ملکی جنگجو بھی ساتھ شامل تھے۔ امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ ان علاقوں میں آپریشن کرو۔ ادھر یہ عرب جن مقامی لوگوں سے سینکڑوں ڈالر ماہانہ پر کچے کوٹھے لے کر رہ رہے تھے، انہیں اپنی حمایت میں کھڑا کیا۔ نیک محمد وہ پہلا کمانڈر تھا جو معروف ہوا۔ اس کے مارے جانے کے بعد پھر چیزیں ڈویلپ ہوتی گئیں اور بیت اللہ محسود مین کمانڈر بن کر ابھرا ، اس نے مختلف دھڑے اکھٹے کیے اور یوں ٹی ٹی پی کی بنیاد ڈالی۔
ٹی ٹی پی کے اس ڈھیلے ڈھالے پلیٹ فارم میں مختلف قسم کے گروپ اکھٹے ہوتے گئے۔ کالعدم فرقہ ورانہ تنظیموں کے لڑکے، کشمیری جہادی تنظیموں کے جنگجو، سوات میں ملا فضل اللہ کے حامی اور دیگر چھوٹے بڑے گروپ ، بعد میں لال مسجد کے واقعے نے آگ لگا دی اور ٹی ٹی پی کو بڑی ریکروٹنگ مل گئی ۔
ٹی ٹی پی کے اس پورے سفر میں حکومت پاکستان یا اداروں کی کوئی حمایت نہیں تھی، بلکہ ابتدا ہی سے مخالفت رہی، کچھ نہ کچھ آپریشنل کارروائیاں ان کے خلاف چلتی رہیں۔ جو چند برس بعد مکمل، بڑے آپریشن میں تبدیل ہوگئیں۔ اب کوئی یہ بتائے کہ کہاں ریاست پاکستان نے ایک وقت میں مجاہد اور گڈ طالبان کہا اور پھر بعد میں بیڈ طالبان بنا دیا؟ نہیں ایسا تو کبھی کچھ نہیں ہوا۔ گڈ طالبان تب ان کو کہا جاتا تھا جو افغانستان جا کر قابض غیرملکی افواج کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ انہیں گڈ طالبان الگ کرنے کے لیے کہہ دیا جاتا اور یہ اصطلاح انگریزی میڈیا کی تھی۔ ایسا نہیں کہ پولیس یا ادارے انہیں ایسا کہتے تھے۔
ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک دیگر دھڑے ابتدا ہی سے پاکستان کے لیے درد سر تھے، ان کے خلاف آپریشن ہوتے رہے، کامیابی بھی ملی، مگر چونکہ ان کی فنڈنگ باہر سے ہو رہی ہے، اس لیے انہیں پھر سے کچھ نہ کچھ ریکروٹ مل جاتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ مگر براہ کرم بغیر سوچے سمجھے، بغیر معلومات کے یہ نہ کہیں کہ ریاست پاکستان انہیں کبھی گڈ اور کبھی بیڈ طالبان کہتی رہی ہے۔ ایسا نہیں ہوا۔ اپنی معلومات درست کر لیں۔ (جاری ہے)
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













