ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کے معاملات پر تبصرے کرنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات سے انکار
آیت اللہ خامنہ ای نے ٹی وی پر اپنے بیان میں مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ایما پر انہیں خوش کرنے کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے عوامی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں اور تہران غیر ملکی طاقتوں کے ‘کرائے کے ایجنٹوں’ کے طور پر کام کرنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے ہاتھ ‘ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں’ اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی رہنما کو بھی اس شاہی خاندان کی طرح اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔
دوسری جانب ایران میں تقریباً 2 ہفتوں سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے، جو مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف شروع ہوئے۔ مظاہرین نے ‘ڈکٹیٹر مردہ باد’ کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کیا۔
یہ بھی پڑھیے: دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران کا صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل
انٹرنیٹ مانیٹر نیٹ بلاکس کے مطابق حکام نے جمعرات کی شب ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی، اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ احتجاج کو دبانے کی کوشش میں ایران 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے۔
امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بدامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور 4 سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 2,200 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
حکام نے بے چینی سے نمٹنے کے لیے دوہرا مؤقف اختیار کیا ہے، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے بات چیت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم بعض مظاہروں کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔














