کراچی کی پرکشش شاہراہوں پر جہاں ڈیزائنر بوتیک روشنیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں، وہیں شیشے کے ان ڈسپلے کیسز کے پیچھے ایک اور دنیا خاموشی سے آباد ہے۔ زمزمہ مال کے قریب چھوٹی دکانوں اور عارضی ورکشاپس میں ہاتھ کی کڑھائی کرنے والے کاریگر گھنٹوں سر جھکائے، مشاق انگلیوں سے کام میں مگن نظر آتے ہیں۔ ان کے اوزار محض سوئیاں، دھاگے اور برسوں سے نسل در نسل منتقل ہونے والا ہنر ہے، لیکن ان کی محنت کی قدر و قیمت کسی طور سادہ نہیں۔
یہ کاریگر پاکستان کی فیشن انڈسٹری کی وہ غیر مرئی ریڑھ کی ہڈی ہیں جنہیں کوئی دیکھ نہیں پاتا۔ ان کی تیار کردہ نفیس کڑھائی اکثر ان پرتعیش عروسی ملبوسات اور برانڈڈ کپڑوں کی زینت بنتی ہے جو ہزاروں اور بسا اوقات لاکھوں روپے میں فروخت ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سکمیدان اسکردو کی شادیوں میں کشمیری رنگ، ثقافتوں کا حسین امتزاج
اس کے باوجود ان ڈیزائنوں کے پیچھے چھپے بہت سے ورکرز دن بھر میں صرف چند سو روپے کما پاتے ہیں، کیونکہ انہیں اکثر فی گھنٹہ کے بجائے فی پیس کے حساب سے اجرت دی جاتی ہے۔
زیادہ تر کڑھائی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی اجرت ان کے وقت اور محنت کے مطابق نہیں ہے۔ ایک واحد تفصیلی ڈیزائن مکمل کرنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں، لیکن ادائیگیاں مقررہ ہوتی ہیں جن میں کسی بحث کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہاں نہ کوئی تحریری معاہدہ ہے، نہ صحت کی سہولیات اور نہ ہی مستقل کام کی ضمانت۔ اگر آرڈرز کم ہو جائیں تو ان کی آمدنی ختم ہو جاتی ہے۔
عالمی سطح پر محنت کشوں کا یہ انتظام بین الاقوامی لیبر قوانین کے تحت سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن منصفانہ اجرت کی تعریف ایسے کرتی ہے جو کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو زندگی کا بنیادی معیار برقرار رکھنے کی اجازت دے۔ اس پیمانے پر کراچی کے بہت سے ماہر کڑھائی کرنے والے ورکرز پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اس کے وسیع تر کاروباری اور انسانی حقوق کے اثرات بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق کے رہنما اصولوں کے تحت کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سپلائی چین میں ورکرز کا استحصال نہ ہو۔ اس میں منصفانہ تنخواہ، کام کے محفوظ حالات اور کام کے ضرورت سے زیادہ اوقات سے تحفظ شامل ہے۔ اگرچہ پاکستان نے ان اصولوں کی توثیق کی ہے، لیکن مقامی سطح پر ان کا نفاذ اب بھی کمزور ہے۔
فیشن برانڈز اور ریٹیلرز اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ کام ٹھیکیداروں کے سپرد کرتے ہیں اور وہ سپلائی چین میں نچلی سطح پر کام کرنے والوں کے حالاتِ زندگی سے لاعلم ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات انہیں ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتی۔
بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق اب برانڈز کے لیے یہ ضروری ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سپلائی چین کا سراغ لگائیں اور اخلاقی ذرائع سے مال کی فراہمی کو یقینی بنائیں، خاص طور پر جب وہ فنکاری کو ہی اپنی مصنوعات کی پہچان بنا کر بیچتے ہوں۔
مزید پڑھیں: سندھ کا قدیم لوک ساز ’بَرِیندو‘ یونیسکو کے ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل
بہت سے کارکنوں کے لیے کڑھائی محض ایک نوکری نہیں بلکہ ایک خاندانی روایت ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ باپ بیٹوں کو سکھاتے ہیں اور مائیں بیٹیوں کو۔ ہنر تو زندہ ہے، لیکن معاشی تحفظ نہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، آرڈرز میں اتار چڑھاؤ اور قانونی تحفظ کی عدم موجودگی نے ہر گزرتے سال کے ساتھ ان کی بقا مشکل بنا دی ہے۔
کراچی جہاں خود کو تخلیقی صلاحیتوں اور جدید فیشن کے مرکز کے طور پر پیش کررہا ہے، وہیں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس کامیابی کا اصل فائدہ کسے پہنچ رہا ہے؟ وہ ہاتھ جو ہر لباس میں ثقافت، روایت اور پہچان بُنتے ہیں، وہ آج بھی بڑے پیمانے پر پسِ پردہ اور نظر انداز ہیں۔












