سندھ کا قدیم لوک ساز ’بَرِیندو‘ یونیسکو کے ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل

بدھ 10 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے سب سے قدیم زندہ لوک سازوں میں شمار کیے جانیوالے بَرِیندو کو باضابطہ طور پریونیسکو کے ثقافتی ورثہ کی اُس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جسے فوری تحفظ کی ضرورت ہے۔

یہ فیصلہ ’غیر ملموس ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق بین الحکومتی کمیٹی‘ کے 20ویں اجلاس میں منظور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پرکشش طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کی حامل پاکستان کی 5 منفرد مساجد

بَرِیندو مٹی سے بنی ہوا میں بجنے والی ایک بانسری نما ساز ہے، جس کی جڑیں 5 ہزار سال قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب تک جا پہنچتی ہیں، یہ سندھ کی روحانی اور کمیونٹی روایات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

صدیوں سے اس کی مدھم اور مراقبہ بخش دُھنیں سردیوں کی بیٹھکوں، صوفیانہ محافل اور دیہی تقریبات کا حصہ رہی ہیں۔

تاہم آج یہ روایت شدید خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ اس کے مکمل علم کے حامل صرف استاد فقیر ذوالفقار اور استاد کمہار اللہ جریو باقی رہ گئے ہیں۔

بَرِیندو کو فوری تحفظ کے محتاج ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی نامزدگی حکومتِ سندھ، پاکستان کے یونیسکو مشن (فرانس) اور یونیسکو ہیڈکوارٹر کے مابین مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے۔

بریندو ساز پر عبور رکھنے والے صرف استاد فقیر ذوالفقار اور استاد کمہار اللہ جریو باقی رہ گئے ہیں۔

یہ اقدام سندھ کے ضلع میں واقع گاؤں ’کیٹی میر محمد لونڈ‘ کی برادری کی سرکردگی میں شروع ہونے والی اُس مقامی کوشش سے متاثر تھا جس کا مقصد بَرِیندو کو ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کرنا ہے۔

ان کوششوں کی بنیاد پر 2026 تا 2029 کا ایک جامع 4 سالہ تحفظاتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں کمیونٹی میوزک اسکول کا قیام، باقاعدہ و غیر رسمی تعلیم میں بَرِیندو ورثے کا شامل کیا جانا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ثقافتی رسائی میں وسعت شامل ہیں۔ یونیسکو کی جانب سے یہ اندراج اس پورے عمل کو مزید مضبوط کرے گا۔

مزید پڑھیں: دیامر بھاشا ڈیم ایریا کے علاقے میں بیش بہا ثقافتی ورثہ محفوظ بنانے کا آغاز

پاکستان کی مستقل مندوب برائے یونیسکو ممتاز زہرہ بلوچ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بَرِیندو کا اندراج پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔

ان کے مطابق یہ ان کمیونٹیز کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے نسل در نسل اس قدیم ساز اور اس کی موسیقی کو محفوظ رکھا۔

’یہ نہ صرف وادیٔ سندھ کی تہذیبی تسلسل کی علامت ہے بلکہ سندھ کے فنکارانہ اور روحانی ورثے کا جیتا جاگتا اظہار بھی ہے۔‘

مزید پڑھیں: گنیش گاؤں: ہنزہ کا ہزار سالہ قدیم، تاریخی اور ثقافتی ورثہ

ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق، یہ عالمی شناخت پاکستان کے اس عزم کی تجدید ہے کہ ہم اپنے متنوع ثقافتی روایات کے تحفظ اور فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔

’ہم یونیسکو کے ساتھ مل کر بَرِیندو کے علم، ہنرمندی اور موسیقیائی شناخت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!