بنگلہ دیش نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس سے ملک کی اہم ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے لیے بہتر مارکیٹ تک رسائی اور نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
واشنگٹن میں ہونے والی میٹنگز کے دوران بنگلہ دیش کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے امریکی حکام سے موجودہ تجارتی رکاوٹوں کا جائزہ لینے کی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان محصولات سے متعلق جامع مذاکرات کا دوبارہ آغاز
جواب میں امریکی ٹریڈ ریپریزنٹیٹیو جیمیسن گِر نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے بنگلہ دیش کے موجودہ 20 فیصد باہمی ٹیرف کے مسئلے کو اٹھائیں گے، تاکہ اسے کم کیا جاسکے اور خطے کے دیگر حریفوں کے برابر لایا جاسکے۔
مذاکرات میں ایک نئی تجویز بھی سامنے آگئی ہے، جس کا مقصد بنگلہ دیش کی برآمدی ترجیحات کی حمایت کرنا ہے۔
دونوں فریقین کے زیر بحث ترجیحی انتظام کے تحت، بنگلہ دیش کو امریکا کی مارکیٹ میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کے لیے ٹیرف فری رسائی حاصل ہوسکتی ہے، جو امریکا سے درآمد ہونے والے کپاس اور مصنوعی فائبر کے حجم کے مساوی ہو، جس کا حساب مربع میٹر کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے درمیان جامع شراکت داری معاہدے پر اہم پیشرفت
حکام نے اس تجویز کو دو طرفہ فائدہ مند میکانزم قرار دیا، جو باہمی تجارت کو فروغ دے گا، بنگلہ دیشی مینوفیکچررز اور کارکنان کی مدد کرے گا، اور امریکی پروڈیوسرز کے ساتھ سپلائی چین کے روابط مضبوط کرے گا۔ یہ پیش رفت بنگلہ دیش–امریکا اقتصادی تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار کی عکاسی کرتی ہے اور بنگلہ دیش کے عالمی تجارتی منظرنامے میں ایک امید افزا مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔














