صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں مقامی حکومت کے حوالے سے نیا آرڈیننس جاری کیا ہے، جس کے تحت شہر میں تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی جو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی حدود کے مطابق کام کریں گی۔
آرڈیننس کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 ڈپٹی میئر ہوں گے، جبکہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں اتنی یونین کونسلیں ہوں گی جتنی حکومت نوٹیفائی کرے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن ایک بار پھر ملتوی، وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی
آرڈیننس کے مطابق میٹروپولیٹین کارپوریشن کی جگہ اب ٹاؤن کارپوریشنز یا ٹاؤن کارپوریشن لیں گی، اور سربراہ سے مراد ٹاؤن کارپوریشن کے میئر یا یونین کونسل کے چیئرمین ہوں گے۔ مقامی حکومت میں یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن شامل ہوں گی، جن میں حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر تعینات ہوگا۔
حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاؤن کارپوریشنز اور یونین کونسلز کی حدود میں ترمیم کر سکتی ہے، البتہ یہ ترمیم الیکشن شیڈیول کے اعلان کے بعد ممکن نہیں ہوگی۔
وزارت داخلہ کی سفارش پر یونین کونسلز کی تعداد میں بھی اضافہ یا کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن ہر یونین کونسل کی حلقہ بندی کرے گا۔
ہر ٹاؤن کارپوریشن کے ممبران میں یونین کونسل کے چیئرمین بطور جنرل ممبران شامل ہوں گے، اس کے علاوہ چار خواتین، ایک کسان یا ورکز، ایک تاجر یا بزنس مین، ایک نوجوان رکن اور ایک غیر مسلم بھی شامل ہوں گے۔ یونین کونسل کے جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا اور تمام ووٹر ایک امیدوار کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے نو امیدوار جنرل ممبران منتخب ہوں گے، جو 30 دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔
یونین کونسل کے جنرل ممبران اور مخصوص نشستوں کے ارکان اپنی صف سے شو آف ہینڈ کے ذریعے چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب کریں گے، اور منتخب چیئرمین و وائس چیئرمین 30 دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
یونین کونسل کا چیئرمین خود ٹاؤن کارپوریشن کا جنرل ممبر ہوگا، جبکہ ٹاؤن کارپوریشن کے مخصوص نشستوں کے ارکان شو آف ہینڈ کے ذریعے منتخب ہوں گے۔
ٹاؤن کارپوریشن کے ممبران اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والے کو مشترکہ میئر اور ڈپٹی میئر کے طور پر منتخب کریں گے، اور میئر یا ڈپٹی میئر کا الیکشن صرف ٹاؤن کارپوریشن کا ممبر لڑ سکتا ہے۔ جہاں مقامی حکومت فعال نہیں ہوگی، وہاں حکومت ایڈمنسٹریٹر تعینات کرے گی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے قبل بڑا اعلان کردیا
آرڈیننس کے مطابق مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر ٹیکس، فیس، کرایہ، ٹول یا دیگر چارجز لگانے کے مجاز ہوں گے، لیکن ہر تجویز پہلے حکومت کی توثیق کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ حکومت کی ہدایات پر مقامی حکومت یا اینڈمنسٹریٹر عمل کرنا لازمی ہوگا، اور وہ ٹیکس میں اضافہ، کمی یا استثنیٰ دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
صدر مملکت آصف زرداری کے دستخطوں کے بعد وزارت قانون و انصاف نے آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔














