سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے اور توڑ پھوڑ کے کیس میں ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان پر حملے کی ویڈیوز میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، اب قانون کے مطابق پولیس وزیراعلیٰ کو ایف آئی آر میں نامزد کرنے کی پابند ہے، تاہم اگر سیاسی دباؤ کے باعث ایسا نہ ہوا تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شبیر حسین گیگیانی نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی نوعیت، فرانزک رپورٹ اور مستقبل میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے ممکنہ خطرات پر تفصیلی بات کی۔

مزید پڑھیں: 9 مئی واقعات: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی و دیگر کی موجودگی کی تصدیق

وزیراعلیٰ سمیت 5 پی ٹی آئی رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق

شبیر حسین گیگیانی نے بتایا کہ ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے کیس کی سماعت جاری ہے، تاہم پولیس مبینہ کوتاہی یا سیاسی دباؤ کے باعث کیس میں سست روی کا شکار رہی۔ سرکاری وکیل بھی کیس کو درست طریقے سے فالو نہیں کررہے تھے، جس کے باعث ریڈیو پاکستان نے اپنا وکیل مقرر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق ویڈیوز موجود تھیں لیکن ان کا فرانزک ہونا باقی تھا۔

’ہم نے عدالت سے درخواست کی کہ ویڈیوز کا فرانزک کروایا جائے، جس کے بعد ویڈیوز یو ایس بی میں ڈال کر سیل کرکے ارسال کی گئیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ویڈیوز کا فرانزک ایس ایس پی کوآرڈینیشن کے ذریعے ہوا اور رپورٹ موصول ہو چکی ہے۔

’ویڈیوز کے ساتھ پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں کی تصاویر فراہم کی گئیں جن میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹ کے مطابق پروفائل تصاویر کی ویڈیوز میں تصدیق ہو چکی ہے اور یہ رپورٹ باقاعدہ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے۔

’پولیس سہیل آفریدی اور دیگر ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کرے گی‘

شبیر حسین گیگیانی کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں اور قانون کے مطابق نئے شواہد کی بنیاد پر پولیس اضافی ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کر سکتی ہے۔

’اس کیس میں بھی نئے شواہد سامنے آئے ہیں اور اضافی ملزمان کی نشاندہی ہو چکی ہے، اس لیے پولیس سہیل آفریدی اور دیگر ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کرے گی۔‘

انہوں نے کہاکہ قانون کے مطابق پولیس وزیراعلیٰ کو ایف آئی آر میں نامزد کرنے کی پابند ہے، تاہم یہ پولیس کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا کیونکہ وزیراعلیٰ کو نامزد کرنا آسان نہیں۔

’سہیل آفریدی اور دیگر ملزمان کی نامزدگی کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا‘

شبیر حسین گیگیانی نے بتایا کہ پولیس کو کسی عدالتی حکم کی ضرورت نہیں، بلکہ نئے شواہد کی بنیاد پر خود ہی ایف آئی آر میں نامزدگی کرنی چاہیے۔

’اگر سیاسی دباؤ کے باعث پولیس نے اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہ کی تو ہم ریڈیو پاکستان سے مشاورت کے بعد عدالت میں سہیل آفریدی کی نامزدگی کے لیے درخواست دیں گے۔‘

انہوں نے کہاکہ پولیس کی جانب سے حاصل کردہ ویڈیوز میں سہیل آفریدی سمیت 5 رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، اور اگر وکیلِ صفائی ان شواہد کو غلط ثابت نہ کر سکے تو سزا ہو سکتی ہے۔

’یہ حساس کیس ہے، ویڈیوز پر سزا ہو سکتی ہے‘

شبیر حسین گیگیانی نے کہاکہ ریڈیو پاکستان حملہ اور 9 مئی توڑ پھوڑ کے کیسز حساس نوعیت کے ہیں، ایسے ہجوم والے واقعات میں عینی شاہد کم ہوتے ہیں، اس لیے ویڈیوز کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں 5 عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند ہو چکے ہیں۔

’یہ حساس نوعیت کا کیس ہے اور اگر شواہد ثابت ہوئے تو وزیراعلیٰ کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔‘

انہوں نے مشال خان قتل کیس اور نور مقدم کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کیسز میں بھی ویڈیوز کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں۔

ویڈیوز بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی وکیل کا دعویٰ

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل علی زمان نے سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی ویڈیوز میں موجودگی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایک مخصوص حلقہ سہیل آفریدی کا میڈیا ٹرائل کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر ہونے والے حملے کی کہانی، عملے کی زبانی

انہوں نے کہاکہ 9 اور 10 مئی کے واقعات پر سیکڑوں ایف آئی آرز درج ہیں اور ایک ہی شخص مختلف تھانوں کی ایف آئی آرز میں نامزد ہے۔

’26 جنوری کو ہماری سماعت ہے اور ہم عدالت کے سامنے حقائق رکھیں گے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp