امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک پر امریکا کے ساتھ تجارت میں 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
اس فیصلے سے وہ ممالک متاثر ہوں گے جو ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ پرتشدد کریک ڈاؤن کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ انتظامیہ نے اطالوی پاستا پر مجوزہ بھاری ٹیرف واپس لے لیا
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران ایک ‘ریڈ لائن’ کے قریب پہنچ چکا ہے اور اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا تو امریکا کے پاس ‘انتہائی سخت آپشنز’ موجود ہیں، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرے گا، اسے امریکا کے ساتھ ہونے والی ہر قسم کی تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
"Effective immediately, any Country doing business with the Islamic Republic of Iran will pay a Tariff of 25% on any and all business being done with the United States of America. This Order is final and conclusive…." – PRESIDENT DONALD J. TRUMP pic.twitter.com/UQ1ylPezs9
— The White House (@WhiteHouse) January 12, 2026
ایران اس وقت 2009 کے بعد بدترین احتجاجی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ مظاہرے ابتدا میں تہران میں کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف شروع ہوئے، جو بعد ازاں ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: مودی کو فون پر بتا دیا کہ پاکستان اور انڈیا کی جنگ نہیں ہونی چاہیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واضح رہے کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جب کہ عراق، متحدہ عرب امارات، ترکی اور بھارت بھی ایران کے اہم تجارتی ساتھیوں میں شامل ہیں۔ امریکی فیصلے کے بعد بھارت کو بھی امریکی درآمدات پر ممکنہ اضافی دباؤ اور تجارتی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔













