فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ کے دوران تنظیم کے کئی سینئر رہنماؤں کی شہادت کے بعد اپنی قیادت کو ازسرِنو منظم کرنے کے لیے اندرونی انتخابات کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
حماس کے ایک سینئر رہنما نے پیر کے روز بتایا کہ داخلی تیاریوں کا عمل جاری ہے تاکہ ان علاقوں میں جہاں زمینی حالات اجازت دیں، مناسب وقت پر انتخابات کرائے جا سکیں۔
انتخابات رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں متوقع
حماس رہنما کے مطابق یہ انتخابات رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں متوقع ہیں، تاہم اس کا انحصار زمینی حالات پر ہوگا۔
اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
غزہ میں بدترین انسانی بحران
جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے 20 لاکھ سے زائد شہری انتہائی خراب انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں خوراک، پانی، طبی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔
نئی شوریٰ کونسل کی تشکیل
قیادت کی تجدید کے عمل میں 50 رکنی نئی شوریٰ کونسل کی تشکیل بھی شامل ہے، جو ایک مشاورتی ادارہ ہے اور اس میں بڑی تعداد میں مذہبی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔
۔شوریٰ کونسل کے ارکان کا انتخاب ہر 4 سال بعد حماس کی 3 شاخوں کے ذریعے کیا جاتا ہے غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارہ، حماس کی بیرونِ ملک قیادت۔
اس کے علاوہ اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے اسیران بھی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے ہیں۔
ماضی میں انتخابات کا طریقہ کار
اکتوبر 2023 سے قبل ہونے والے انتخابات میں غزہ اور مغربی کنارے کے ارکان مختلف مقامات، بشمول مساجد، میں جمع ہو کر شوریٰ کونسل کے ارکان کا انتخاب کرتے تھے۔
سیاسی بیورو اور سربراہ کا انتخاب
شوریٰ کونسل ہر 4 سال بعد 18 رکنی سیاسی بیورو اور اس کے سربراہ کا انتخاب کرتی ہے، جو حماس کا سربراہ ہوتا ہے۔
سیاسی بیورو کے انتخابات غیر یقینی
انتخابی عمل سے واقف حماس کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ سیاسی بیورو کے انتخابات کا وقت ابھی غیر یقینی ہے، کیونکہ ہمارے عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ انتہائی مشکل ہیں۔
حماس کی قیادت میں حالیہ تبدیلیاں
یاد رہے کہ جولائی 2024 میں اسرائیل نے حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا تھا، جس کے بعد حماس نے غزہ میں اپنے سربراہ یحییٰ سنوار کو نیا قائد منتخب کیا۔
اسرائیل نے یحییٰ سنوار پر 7 اکتوبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا تھا۔
بعد ازاں، ہنیہ کی شہادت کے تقریباً 3 ماہ بعد، رفح میں اسرائیلی کارروائی کے دوران یحییٰ سنوار بھی شہید ہو گئے۔













