ایم ایل ون منصوبہ: کراچی پورٹ سے تعمیراتی کام جولائی میں شروع ہونے کا امکان

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کے فلیگ شپ منصوبے مین لائن ون یعنی ایم ایل ون پر عملی کام جولائی 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

منگل کو جاری بیان کے مطابق اس ضمن میں تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز کراچی پورٹ سے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ریلوے: 6.7 ارب ڈالر کے اہم ترین منصوبے ایم ایل ون کی منظوری

اس منصوبے کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ سے پپری تک 54 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا، تاکہ کارگو کی بلا تعطل اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر حنیف عباسی نے بتایا کہ پاکستان ریلوے آئندہ 5 ماہ کے اندر کم از کم 4 فریٹ ٹرینیں روزانہ چلانے کا منصوبہ رکھتا ہے، جن میں بلک کارگو کی ترسیل کو ترجیح دی جائے گی۔

محمد حنیف عباسی نے 9 جنوری کو کراچی کے دورے کے دوران چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد سے اہم ملاقات کی۔

جس میں کراچی پورٹ سے کارگو کی مؤثر ریلوے کے ذریعے نقل و حمل کے لیے ریلوے نظام کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایم ایل ون، کراچی روہڑی سیکشن پر کام کا آغاز کب ہوگا؟ احسن اقبال نے خوشخبری سنا دی

ملاقات میں بندرگاہ اور اس سے منسلک سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے لیے سڑک کے بجائے ریل کے ذریعے زیادہ کارگو منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ریل کے ذریعے فریٹ ٹرانسپورٹ نہ صرف کم لاگت بلکہ پائیدار حل ہے، جو لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کارگو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑے اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی مجموعی فریٹ ہینڈلنگ صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے قومی اور بین الاقوامی تجارت میں کراچی پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان ریلوے اور کے پی ٹی کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد کے 2 ریلوے اسٹیشنز کو عوام دوست اور جدید بنانے کا فیصلہ

اس موقع پر چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ اپنی اندرونی ریلوے لائنوں کو اپ گریڈ کرے گا اور پاکستان ریلوے کے ساتھ قریبی تعاون سے بندرگاہ سے منسلک ریلوے انفرااسٹرکچر کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بہتر ریلوے رابطہ کاری سے نہ صرف سڑکوں اور بندرگاہوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ لاجسٹکس اخراجات میں کمی، ٹرن اراؤنڈ ٹائم میں بہتری اور تجارت، صنعت اور قومی معیشت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

سہ ملکی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں