جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: سندھ ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز مستقل، 2 کو 6 ماہ کی توسیع

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ ہائیکورٹ کے 12 ایڈیشنل ججز کی مستقلی سے متعلق غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران جوڈیشل کمیشن نے 12 میں سے 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی، جس کا باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کے لیے ججوں کی مستقل تقرری کی منظوری

اعلامیے کے مطابق جن ججز کو مستقل کیا گیا ان میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس عبدالحامد بھرگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس ناصر احمد بھنبوڑو، جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس عثمان علی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔ جبکہ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس خالد حسین شہانی اور جسٹس فیاض الحسن شاہ کو چھ ماہ کے لیے توسیع دینے کی منظوری دی۔

اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی آئینی بینچ کے لیے جسٹس امجد علی، جسٹس حسن اکبر اور جسٹس عثمان علی ہادی کو نامزد کر دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: آوارہ کتوں کا قربانی کے جانور پر دھاوا، پے درپے حملوں سے دنبہ دم توڑ گیا

خلائی تحقیق میں چین کا نیا سنگِ میل، انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے مشن کامیابی سے روانہ

فرنچ اوپن کی تاریخ کا انوکھا واقعہ، ٹینس اسٹار آرینا سبالینکا کے پالتو کتے کو بھی آفیشل ٹورنامنٹ کا کارڈ جاری

پنجاب حکومت کا گرین سرمایہ کاری کی جانب بڑا قدم، ویسٹ ٹو انرجی پالیسی پر کام تیز

پاکستان رئیل اسٹیٹ کی بڑی کامیابی، ایشیا پیسیفک پراپرٹی ایوارڈز میں 2 عالمی اعزازات اپنے نام کرلیے

ویڈیو

عید الاضحیٰ: پشاور میں باربی کیو کی تیاریوں کے منفرد انداز

لگژری فارم ہاؤس! جہاں کروڑوں روپے مالیت کے قربانی کے بیل رہتے ہیں

عیدالاضحیٰ کے موقع پر کون سے سیاحتی مقامات سیر و تفریح کے لیے بہترین ہیں؟

کالم / تجزیہ

بدرالدین بدر، معروف ادیبوں کا ایک فراموش کردہ دوست

ڈونلڈ ٹرمپ کی قربانی

نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟