اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے ایک نئے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔
این آئی ایچ میں میں قائم پولیو کے خاتمے کے لیے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کے مطابق پولیو کا حالیہ کیس 2025 میں شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہونے والا 5واں کیس ہے۔
جس کے بعد گزشتہ برس ملک بھر سے رپورٹ ہونیوالے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 31 ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے 46 مقامات کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی، سندھ سب سے آگے
لیبارٹری کے مطابق یہ وائرس شمالی وزیرستان کی یونین کونسل سپین وام-2 سے تعلق رکھنے والی 4 ماہ کی بچی میں پایا گیا۔
بچی میں دسمبر کے مہینے میں پولیو کی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد لیے گئے نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کی تصدیق ہوئی۔ اس طرح یہ 2025 کا 31واں پولیو کیس قرار پایا۔
گزشتہ سال پاکستان میں پولیو کے مجموعی طور پر 20 کیسز خیبر پختونخوا، نو سندھ، جبکہ پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: 2025 میں پاکستان میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی
2025 میں جنوبی خیبر پختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا، جہاں ملک کے 31 میں سے 17 کیسز سامنے آئے۔
سیکیورٹی چیلنجز کے باعث جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں، خصوصاً شمالی وزیرستان میں، پولیو ٹیموں کی مسلسل رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔
حکام کے مطابق یہ نہایت ضروری ہے کہ گھر گھر پولیو مہم کے دوران ہر بچے تک ویکسین پہنچائی جائے اور انہیں معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی مکمل خوراک دی جائے۔
مزید پڑھیں: انسداد پولیو ویکسینیشن مہم: آصفہ بھٹو نے والدین سے اہم اپیل کردی
پاکستان پولیو کے خاتمے کا پروگرام جنوبی خیبر پختونخوا میں خصوصی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
جس میں مقامی بااثر شخصیات کو مہم میں شامل کرنا اور غذائیت، معمول کی ویکسینیشن اور دیگر صحت سہولیات کو یکجا کرنا شامل ہے تاکہ بچوں میں قوتِ مدافعت بڑھائی جا سکے۔
حکام کے مطابق 2024 کے مقابلے میں 2025 میں پولیو وائرس کی مثبت نشاندہی میں مجموعی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو مؤثر ویکسینیشن مہمات کا نتیجہ ہے۔














