بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات اور ریفرنڈم مقررہ شیڈول کے مطابق 12 فروری کو ہی منعقد ہوں گے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
یہ بات انہوں نے منگل کی شام اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جامونا میں امریکی سابق سفارت کاروں البرٹ گومبس اور مورس ٹین سے ملاقات کے دوران کہی۔ پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے غلط معلومات اور دانستہ گمراہ کن مہم پھیلائی جا رہی ہے، تاہم عبوری حکومت اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
یہ بھی پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
ان کا کہنا تھا کہ ‘کوئی کچھ بھی کہے، انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، نہ ایک دن پہلے اور نہ ایک دن بعد’۔ انہوں نے مزید کہا کہ نتائج کے اعلان کے فوراً بعد اقتدار منتخب جمہوری حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔
چیف ایڈوائزر نے امریکی سفارت کاروں کو یقین دلایا کہ انتخابات آزاد، منصفانہ، پُرامن اور خوشگوار ماحول میں ہوں گے، جبکہ عبوری حکومت مکمل غیر جانبداری اختیار کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں مواقع یقینی بنائے گی۔
البرٹ گومبس اور مورس ٹین انتخابات سے قبل بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں تاکہ انتخابی ماحول کا جائزہ لے سکیں۔ چیف ایڈوائزر کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات میں آئندہ انتخابات، جولائی کی عوامی تحریک اور اس کے بعد کی صورتحال، نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی تحریکیں، جولائی چارٹر اور ریفرنڈم، جعلی خبروں کا پھیلاؤ، روہنگیا بحران اور جولائی کے بعد ممکنہ ’سچ اور مفاہمت‘ کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل جماعت اسلامی اور این سی پی کے درمیان مفاہمت
پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ عبوری حکومت ریفرنڈم میں ’ہاں‘ کے ووٹ کی حمایت کر رہی ہے، کیونکہ جولائی چارٹر کی عوامی توثیق جمہوری طرزِ حکمرانی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی اور مستقبل میں آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ’فاشسٹ‘ حکومت کے حامی انتخابات کے حوالے سے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں تاکہ کنفیوژن پیدا کی جا سکے، تاہم انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ اب اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔
البرٹ گومبس نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جعلی خبریں دنیا بھر میں جمہوریت کی بڑی دشمنوں میں شامل ہیں اور ان کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
امریکی سفارت کاروں نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بنگلہ دیش کو سنبھالنے پر پروفیسر محمد یونس کے کردار کو سراہا اور سوال کیا کہ آیا بنگلہ دیش جنوبی افریقہ کی طرز پر ’ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن‘ کے عمل پر غور کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: فوجی تحویل میں بی این پی کارکن ہلاک، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم
اس پر پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ وہ نیلسن منڈیلا کے قریبی دوست رہے ہیں اور جنوبی افریقہ کے مفاہمتی عمل کا قریب سے مشاہدہ کر چکے ہیں، تاہم بنگلہ دیش میں فی الحال ایسا عمل ممکن نہیں کیونکہ ماضی کے جرائم کے ذمہ دار افراد اپنے اعمال تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘سچ اور مفاہمت کا آغاز اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب مجرم اپنے جرم کا اعتراف کریں اور ندامت کا اظہار کریں، لیکن اس وقت شواہد کے باوجود نہ اعتراف ہے اور نہ پچھتاوا’۔
اس ملاقات میں ایس ڈی جی کوآرڈینیٹر اور سینئر سیکرٹری لامیہ مرشد بھی موجود تھیں۔












