فرانس نے آئندہ ماہ گرین لینڈ میں اپنا قونصل خانہ کھولنے کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ پر ممکنہ قبضے کیخلاف امریکی سینیٹ میں بل پیش
فرانسیسی حکومت کے مطابق یہ اقدام نیم خودمختار جزیرے کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ڈنمارک اور یورپی یونین کا حصہ برقرار رہے اور یہ امریکا کے لیے ایک واضح سیاسی پیغام بھی ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے بدھ کے روز نشریاتی ادارے آر ٹی ایل کو بتایا کہ گرین لینڈ میں قونصل خانے کا افتتاح 6 فروری کو کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی بار بار دھمکیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ژاں نویل بارو نے کہا کہ یہ ایک سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد گرین لینڈ میں فرانس کی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے خاص طور پر سائنسی شعبے میں۔
انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ نہ تو کسی کی ملکیت بننا چاہتا ہے نہ اس پر حکومت کروانا چاہتا ہے اور نہ ہی امریکا میں ضم ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ نے ڈنمارک، نیٹو اور یورپی یونین کے ساتھ رہنے کا انتخاب کیا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف
فرانسیسی وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ لارس لوکے راسموسن اور ویویان موٹس فیلڈٹ واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرنے والے تھے جس میں جزیرے کی صورتحال پر بات چیت متوقع تھی۔
صدر ٹرمپ کے بیان کہ ’گرین لینڈ کو کسی نہ کسی طریقے سے امریکا کے کنٹرول میں لایا جائے گا‘ نے نیٹو کے اندر ایک سنگین بحران پیدا کر دیا ہے۔
یورپی اتحادیوں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا قبضہ امریکا اور یورپ کے تعلقات پر گہرے منفی اثرات ڈالے گا۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں روس اور چین کی جانب سے خطرات لاحق ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ڈنمارک نے اس خطے کی سیکیورٹی کو نظر انداز کیا ہے۔ گرین لینڈ میں پہلے ہی امریکا کے فوجی اڈے موجود ہیں جبکہ یہ علاقہ تیل، گیس اور جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والی نایاب معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کے ارادوں پر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چاہتے ہیں، ڈنمارک
ڈنمارک کے وزیر دفاع نے بدھ کے روز کہا کہ ان کا ملک گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط کرے گا اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت جاری ہے۔
وزیر دفاع ٹرولس پولسن نے اے ایف پی کو جاری بیان میں کہا کہ آرکٹک خطے میں نیٹو کی مشقوں اور موجودگی میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکا کے بجائے ڈنمارک کا انتخاب کرتے ہیں۔
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے منگل کے روز واضح کیا کہ ان کا ملک امریکا کے بجائے ڈنمارک کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کوپن ہیگن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم اس وقت ایک جیوپولیٹیکل بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور اگر ہمیں امریکا اور ڈنمارک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ہم ڈنمارک کا انتخاب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا حکم دے دیا؟‘

جب صدر ٹرمپ سے نیلسن کے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، میں اسے نہیں جانتا اور اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن یہ اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بننے والا ہے۔
صدر ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد نیٹو کے دیگر ممالک کی جانب سے بھی ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولنے کا فیصلہ گزشتہ موسمِ گرما میں کیا گیا تھا جب صدر ایمانوئیل میکرون نے گرین لینڈ کا دورہ کر کے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
مزید پڑھیے: گرین لینڈ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا نیا مرکز کیوں بن گیا؟
انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اگست میں گرین لینڈ گئے تھے تاکہ قونصل خانے کے قیام کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔














