پاکستان اور ازبکستان اپنے اقتصادی تعلقات مضبوط کر رہے ہیں اور باہمی تجارتی حجم کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں صنعتی تعاون، سرمایہ کاری، اور مشترکہ منصوبوں کی رفتار تیز کی جا رہی ہے، جبکہ متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ازبکستان سے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت، پاکستان کا صنعتی و سیاحتی تعاون بڑھانے کا اعلان
پاکستان اور ازبکستان کے اعلیٰ حکام کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں صنعتی اور تجارتی تعاون کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان، اور ازبکستان کے نائب وزیر برائے سرمایہ کاری، صنعت اور تجارت، شاہ رخ غلاموف نے شرکت کی۔
ملاقات میں باہمی مشترکہ منصوبہ کمیٹیوں کو فعال کرنے اور صنعتی و تجارتی شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے عملی نفاذ پر زور دیا گیا۔

دونوں ممالک نے خطے میں رابطوں، صنعتی تعاون، اور سیاحت کی ترقی کو تجارتی حجم بڑھانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اور پائیدار اقتصادی ترقی اور خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ازبکستان مشترکہ منصوبہ کمیٹیاں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی منتقلی، اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے لیے کام کریں گی، جبکہ سرمایہ کاری کے تعاون کے طریقہ کار ازبک سرمایہ کاری کو پاکستان کی صنعتی اور پیداواری صنعتوں میں متوجہ کریں گے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبہ پاکستان کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے؟
دونوں ممالک نے باہمی تجارتی مواقع کو بڑھانے، پاکستان کے خطے میں تجارتی نیٹ ورک کو متنوع بنانے، اور وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان پاکستان کو ایک اہم تجارتی اور ترسیلی مرکز کے طور پر مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
سیاحت اور صنعتی تعاون کے منصوبے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دیں گے اور خطے میں اقتصادی ترقی اور استحکام میں مددگار ثابت ہوں گے۔














