امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک عوامی لائبریری کو اس وقت غیر متوقع حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب ایک کتاب تقریباً 46 سال کی تاخیر کے بعد واپس موصول ہوئی، جسے دیکھ کر لائبریری عملہ بھی مسکرا اٹھا۔
یہ بھی پڑھیں:مشہور برطانوی مصنف جیمی اولیور کو اپنی نئی کتاب واپس کیوں لینا پڑی؟
خبر کے مطابق سان ڈیاگو کاؤنٹی لائبریری کی لا میسا برانچ کی منیجر کیسی کولڈوِن نے جنوری کے اوائل میں ایک پیکٹ کھولا تو اس میں شیلا برن فورڈ کی کتاب دی اِنکریڈیبل جرنی موجود تھی، جو مئی 1980 میں واپس کی جانی تھی۔ لائبریری ریکارڈ کے مطابق یہ کتاب تقریباً 46 برس قبل واجب الادا ہو چکی تھی۔
کیسی کولڈوِن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پیکٹ کھولتے ہی پرانی کتابوں کی مخصوص خوشبو محسوس ہوئی، جو اس کتاب میں خاصی نمایاں تھی۔ ان کے مطابق بھیجنے والے نے تحقیق کر کے کتاب درست برانچ کو واپس کی، حالانکہ لائبریری اب نئے پتے پر منتقل ہو چکی ہے۔
کتاب ایک گمنام شخص کی جانب سے واپس کی گئی، جس کے ساتھ ایک مختصر نوٹ بھی تھا جس پر لکھا تھا: ’اتنی دیر سے واپس کرنے پر معذرت‘ اور ساتھ ہاتھ سے بنایا گیا ایک مسکراتا ہوا چہرہ بھی موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں:لائبریری سے لی گئی کتاب 98 سال بعد واپس، کتنا جرمانہ بنتا ہے؟
سان ڈیاگو کاؤنٹی انتظامیہ نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ لائبریری کی کتابیں واپس کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی، کیونکہ اب کاؤنٹی لائبریری میں تاخیر پر روزانہ جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا۔
لائبریری انتظامیہ کے مطابق یہ کتاب دوبارہ شیلف میں نہیں رکھی جائے گی بلکہ اسے ایک یادگار کے طور پر محفوظ رکھا جائے گا، تاکہ یہ دلچسپ واقعہ ہمیشہ یاد رہے۔













