یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر بڑھتے ہوئے ٹیرف دباؤ کے جواب میں اپنے سخت ترین تجارتی ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، تاہم فی الحال ان اقدامات کو مؤخر رکھتے ہوئے آخری مرحلے کی سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اتوار کو یورپی سفیروں کے ہنگامی اجلاس کے بعد رکن ممالک نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، لیکن فوری طور پر اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کو فعال کرنے سے گریز کیا۔ اس انتہائی طاقتور تجارتی آلے کو اس کی شدت کے باعث ‘ٹریڈ بازوکا’ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے
تاہم رپورٹس کے مطابق اگر صدر ٹرمپ نے نئے امریکی محصولات نافذ کیے تو یورپی یونین امریکا کی مصنوعات پر 93 ارب یورو (تقریباً 108 ارب ڈالر) کے معطل شدہ جوابی ٹیرف پیکج کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیکج گزشتہ سال ٹرمپ کی پہلی ٹیرف کارروائی کے جواب میں تیار کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں امریکا اور یورپی یونین کے درمیان عارضی تجارتی معاہدے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔

کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ یکم فروری سے یورپ کے آٹھ نیٹو ممالک ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، برطانیہ اور فن لینڈ سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، کیونکہ ان ممالک نے گرین لینڈ کے حصول کی امریکی کوشش کی مخالفت کی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یکم جون تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ، یورپی طاقتوں نے ڈنمارک کی حمایت کر دی
یورپی یونین کی ممکنہ جوابی حکمتِ عملی دو سطحوں پر مشتمل ہے۔ فوری سطح پر 93 ارب یورو کا جوابی ٹیرف پیکج موجود ہے، جس کے بارے میں ایک یورپی سفارتکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو یہ پیکج ‘6 فروری کو خودکار طور پر دوبارہ نافذ ہو سکتا ہے۔’
اس سے بھی زیادہ اہم سطح پر یورپی قیادت اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کے غیر معمولی استعمال پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ 2023 میں منظور کیا گیا یہ آلہ یورپی یونین کو معاشی دباؤ کے جواب میں سخت اقدامات کی اجازت دیتا ہے، جن میں مارکیٹ تک رسائی محدود کرنا، سرمایہ کاری پر پابندیاں اور دانشورانہ املاک کے حقوق سے متعلق کارروائیاں شامل ہیں۔ یہ قانون بنیادی طور پر حریف معاشی طاقتوں سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مبینہ طور پر ٹرمپ کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اس آلے کو فعال کرنے کا واضح مطالبہ کیا ہے۔ پولیٹیکو کے مطابق، فرانسیسی صدارتی دفتر نے اتوار کو کہا کہ ‘وہ فرانس کی جانب سے اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کے نفاذ کا مطالبہ کریں گے۔’
ادھر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے جمعرات 22 جنوری کو یورپی رہنماؤں کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ مشترکہ مؤقف طے کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ‘کسی بھی قسم کے دباؤ کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔’












