گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ، یورپی طاقتوں نے ڈنمارک کی حمایت کر دی

بدھ 7 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی رہنماؤں کے ایک گروپ نے مشترکہ بیان میں گرین لینڈ کو ڈنمارک کا حصہ قرار دیتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیٹو رکن ریاست کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بار پھر خودمختار ڈینش خطے گرین لینڈ پر قبضے میں دلچسپی کا اظہار کیا، ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن نے وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت

اس کے بعد ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ جب ٹرمپ گرین لینڈ کی خواہش کا اظہار کریں تو انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

منگل کو جاری ہونے والے اس دستاویز پر میٹے فریڈرکسن، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے علاوہ اٹلی، اسپین اور پولینڈ کے رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین لینڈ اس کے عوام کا ہے، ڈنمارک اور گرین لینڈ سے متعلق معاملات پر فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: کیا صدر ٹرمپ امریکا کو تنہا اور کمزور بنا رہے ہیں؟

صدر ٹرمپ طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اپنی تذویراتی اہمیت کے باعث وسائل سے مالا مال اس آرکٹک جزیرے پر امریکا کا کنٹرول ہونا چاہیے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ کوپن ہیگن گرین لینڈ کا مؤثر تحفظ نہیں کر سکتا، اور اس ضمن میں علاقے میں روسی اور چینی بحری سرگرمیوں کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم ماسکو کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی آرکٹک میں کسی کو دھمکی نہیں دی۔

یورپی رہنماؤں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیٹو کے یورپی اتحادی آرکٹک خطے کو ایک ترجیح سمجھتے ہیں اور اسے ’محفوظ رکھنے اور ممکنہ مخالفین کو روکنے‘ کے لیے اپنی کوششیں بڑھا رہے ہیں۔

تاہم اس دستاویز میں امریکا کی جانب سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی، اس کے برعکس، امریکا کو آرکٹک میں ’سلامتی کے دفاع میں ایک اہم شراکت دار‘ قرار دیا گیا ہے اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بالخصوص خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سرحدوں کے تقدس، کی پاسداری کرے۔

مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے باشندوں کا ٹرمپ کو منہ توڑ جواب

یورپی یونین نے ہفتے کے روز امریکا کی جانب سے تیل سے مالا مال وینزویلا پر حملے، صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا اور انہیں منشیات اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کے لیے نیویارک منتقل کیے جانے کے بعد بھی اسی نوعیت کا محتاط ردِعمل ظاہر کیا تھا۔

اتوار کو یورپی یونین کی سفارتی سروس کی جانب سے جاری بیان میں نہ تو امریکی کارروائیوں کی حمایت کی گئی اور نہ ہی مذمت، بلکہ ’تحمل اور ضبط‘ پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور کی پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار